Technology
بچوں کی تربیت اور چیٹ بوٹس کے خطرات - نیکسورا نیوز
انسانی دماغ کو ارتقائی طور پر انسانوں سے سیکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن آج کل کے بچے چیٹ بوٹس اور ڈیجیٹل سسٹمز کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کی مصنوعی ذہانت پر یہ ضرورت سے زیادہ انحصار ان کی جذباتی اور سماجی نشوونما کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انسانی دماغ نے لاکھوں سال کے ارتقاء کے دوران خاص طور پر انسانوں سے سیکھنے کی صلاحیت حاصل کی ہے۔ جب کوئی بچہ کسی دوسرے انسان کی نرم آواز سنتا ہے، لوری سنتا ہے یا اس کے رونے پر کوئی دوسرا انسان جواب دیتا ہے، تو اس کے دماغ کے وہ حصے متحرک ہوتے ہیں جو سماجی اور جذباتی تعلق قائم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ آج کے اس ڈیجیٹل دور میں بچوں کا ایک بڑا حصہ سکرینز اور خاص طور پر چیٹ بوٹس کے ساتھ وقت گزار رہا ہے، جو کہ انسانی رویوں کی نقل تو کر سکتے ہیں لیکن حقیقی انسانی جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔
ماہرین نفسیات اور چائل্ড ڈیولپمنٹ کے محققین نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جب بچے ابتدائی سالوں میں انسانوں کے بجائے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز سے زیادہ بات چیت کرتے ہیں، تو ان کی سماجی مہارتیں بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔ چیٹ بوٹس کبھی بھی حقیقی انسانی ہمدردی، باہمی تعامل اور غلطیوں سے سیکھنے کے عمل کا متبادل نہیں بن سکتے۔ بچے جب انسانوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں تو وہ چہرے کے تاثرات، لہجے کی تبدیلی اور جسمانی زبان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں جو کہ کسی بھی چیٹ بوٹ کی پہنچ سے باہر ہے۔
مزید برآں، ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بچوں کے لیے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے یہ پروگرام بعض اوقات بچوں کو غلط معلومات فراہم کر سکتے ہیں یا انہیں جذباتی طور پر اپنے ساتھ اس طرح باندھ سکتے ہیں کہ وہ حقیقی دنیا کے تعلقات سے کٹ جاتے ہیں۔ اس سے بچوں میں تنہائی، ڈپریشن اور لوگوں سے ملنےجلنے سے گھبراہٹ جیسی نفسیاتی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ والدین کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ڈیجیٹل آلات اور چیٹ بوٹس کے بے لگام استعمال سے بچائیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ حقیقی انسانی ماحول فراہم کریں۔
مستقبل کے حوالے سے یہ ایک بہت بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے کیونکہ نئی نسل تیزی سے ڈیجیٹل دنیا کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ اور پالیسی ساز ادارے مل کر ایک ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس کے تحت بچوں کی ڈیجیٹل زندگی اور حقیقی دنیا کے درمیان ایک توازن قائم رکھا جا سکے۔ اگر اس معاملے پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو آنے والے وقتوں میں معاشرے کے اندر جذباتی طور پر کمزور اور الگ تھلگ انسانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو سکتی ہے جو حقیقی دنیا کے چقراف کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہوگی۔