LIVE
Loading Breaking News...

این ایس ای کی جانب سے مجاز افراد کے ضوابط میں سخت تر ترامیم کی تجویز

News Image
نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نے مالیاتی تقاضوں کو سختی سے بڑھاتے ہوئے مجاز افراد (APs) کے لیے ایک جامع نظرثانی شدہ ریگولیٹری فریم ورک تجویز کیا ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ اور حصص بازار میں شفافیت کو مزید فروغ دینا ہے۔
نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نے سرمایہ کاری کے شعبے میں شفافیت کو یقینی بنانے اور کسی بھی ممکنہ مالیاتی بدعنوانی کو روکنے کے لیے مجاز افراد (Authorised Persons) کے ریگولیٹری فریم ورک میں ایک وسیع پیمانے پر نظرثانی کی تجویز پیش کی ہے۔ اس نئے مجوزہ فریم ورک کا مقصد نہ صرف مارکیٹ کے قواعد و ضوابط کو مزید سخت بنانا ہے بلکہ مجاز افراد کے لیے اہلیت کے معیار کو بھی بلند کرنا ہے تاکہ چھوٹے اور بڑے سرمایہ کاروں کے مفادات کا بہتر تحفظ کیا جا سکے۔ ایکسچینج کی جانب سے جاری کردہ تجاویز میں مالیاتی تقاضوں کو نمایاں طور پر بڑھایا گیا ہے تاکہ صرف وہی افراد یا ادارے اس شعبے میں سرگرم رہیں جو مضبوط مالی پوزیشن رکھتے ہوں۔نئے قواعد کے تحت مجاز افراد کو سخت ترین جانچ پڑتال کے مراحل سے گزرنا ہوگا اور ان کے تجارتی طریقوں پر بھی پہلے سے زیادہ کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ، تعمیل کے عمل (Compliance) کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئے معیارات متعارف کرائے جا رہے ہیں جن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت تضبطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قدم سے طویل مدت میں اسٹاک مارکیٹ کے اندر اعتماد کی فضا مزید مستحکم ہوگی اور ریگولیٹری اداروں کو مارکیٹ پر بہتر کنٹرول حاصل ہوگا۔اسٹاک ایکسچینج کے متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضوں اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں ڈیجیٹل ٹریڈنگ اور مالیاتی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، وہیں دھوکہ دہی کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد دراصل کسی بھی قسم کے فنانشل فراڈ کے راستوں کو بند کرنا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال رکھنا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان تجاویز پر تمام متعلقہ فریقین سے آراء لینے کے بعد جلد ہی حتمی ضوابط کا باضابطہ نفاذ کر دیا جائے گا۔