LIVE
Loading Breaking News...

جیف برججز کا مصنوعی ذہانت اور ہالی ووڈ کے مستقبل پر تشویشناک بیان

News Image
معروف ہالی ووڈ اداکار جیف برججز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی وجہ سے فنکاروں کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں وہ اپنے ڈیجیٹل نقوش یا چہرے کو فلم سازوں کو لیز پر دینے پر غور کر رہے ہیں۔
ہالی ووڈ کے تجربہ کار اور لیجنڈری اداکار جیف برججز نے حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے فلمی صنعت میں تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی یہ لہر اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ اس سے انسانی فنکاروں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ جیف برججز نے ایک انٹرویو کے دوران مزاحیہ لیکن تلخ انداز میں کہا کہ وہ دن دور نہیں جب مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ان جیسے اداکاروں کی فلموں میں کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور وہ جلد ہی اس پیشے سے باہر ہو جائیں گے۔ فلمی صنعت میں انسانی محنت اور جذبات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اداکار کا کہنا تھا کہ ہالی ووڈ نے طویل عرصے تک ناظرین کو خالص انسانی کاوشوں کے ذریعے بہترین تفریح فراہم کی ہے۔ تاہم، اب ٹیکنالوجی جس طرح تخلیقی شعبے میں قدم رکھ رہی ہے، اس سے روایتی اداکاری کے اصول بدل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم سازوں کا مصنوعی ذہانت کی طرف بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مستقبل قریب میں اسکرین پر اصل انسانوں کے بجائے ڈیجیٹل اور کمپیوٹر جنریٹڈ چہرے زیادہ دکھائی دیں گے۔ مستقبل کے ممکنہ لائحہ عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے جیف برججز نے انکشاف کیا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے انہیں شاید اب ایک نیا راستہ اپنانا پڑے گا۔ انہوں نے سنجیدہ مذاق میں کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت واقعی سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے تو وہ اپنے ڈیجیٹل نقوش، آواز اور چہرے کے حقوق فلم سازوں کو باقاعدہ لیز پر دینے پر غور کر سکتے ہیں۔ ان کا یہ بیان ہالی ووڈ کے حلقوں میں بحث کا نیا موضوع بن گیا ہے جہاں پہلے ہی سکرین رائٹرز اور اداکاروں کی یونینز اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے خلاف تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔ موجودہ دور میں ہالی ووڈ سمیت پوری دنیا کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر شدید بحث جاری ہے۔ ایک طرف جہاں اس ٹیکنالوجی سے پروڈکشن کے اخراجات کم کرنے اور کام کو آسان بنانے میں مدد مل رہی ہے، وہیں دوسری طرف جیف برججز جیسے سینئر فنکاروں کی یہ وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تخلیقی پیشوں میں انسانوں کی بقا کا مسئلہ اب ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے۔