Technology
مصنوعی ذہانت اور مالی رہنمائی: گیلوپ سروے کے اہم نتائج
ایک نئے گیلوپ سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ کچھ امریکی بالغ افراد مالی امور میں رہنمائی کے لیے مصنوعی ذہانت کا رخ کر رہے ہیں۔ تاہم، اکثریت اب بھی مالیاتی مشورے کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی پر مکمل بھروسہ کرنے سے گریزاں ہے۔
نئی دہلی اور نیویارک سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق، گیلوپ اور اس کے شراکت داروں کی جانب سے کیے جانے والے ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگرچہ چند امریکی بالغ افراد اپنے مالیاتی امور اور رہنمائی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال شروع کر چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس ٹیکنالوجی کو مالی مشورے کا سب سے قابل اعتماد ذریعہ نہیں سمجھا جا رہا۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود روایتی ذرائع اور انسانی ماہرین پر لوگوں کا اعتماد اب بھی زیادہ قائم ہے۔
رپورٹ کے مطابق، روزمرہ کی زندگی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور لوگ اپنے مالی مسائل کے حل، بجٹ کی تیاری اور سرمایہ کاری کے بنیادی اصول سمجھنے کے لیے چیٹ بوٹس اور دیگر اے آئی سسٹمز سے مدد لے رہے ہیں۔ تاہم، جب بات مالیاتی فیصلوں کی آتی ہے تو صارفین میں ایک واضح ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔ سروے میں حصہ لینے والے بیشتر افراد کا کہنا تھا کہ وہ اے آئی کی فراہم کردہ معلومات کو حتمی ماننے کے بجائے محض ایک ابتدائی معلومات کا ذریعہ سمجھتے ہیں کیونکہ اس ٹیکنالوجی میں غلطیوں کے امکانات بھی موجود ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ایک دو دھاری تلوار کی طرح ہے۔ ایک طرف جہاں یہ عام لوگوں کو پیچیدہ مالی تصورات کو آسان زبان میں سمجھانے میں مدد دیتا ہے، وہیں دوسری طرف ڈیٹا کی سکیورٹی، رازداری اور درستگی کے حوالے سے شدید خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سروے کے مطابق، اگرچہ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن مجموعی طور پر صارفین اے آئی پر اندھا اعتماد کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز مزید بہتر اور قابل اعتماد ہوں گے، مستقبل میں اس کے استعمال کے تناسب میں مزید تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ تاہم، فی الحال مالیاتی اداروں اور انسانی مشیروں کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے کیونکہ لوگ اپنے محنت سے کمائے گئے پیسوں کے معاملات میں انسانی سمجھ بوجھ اور تجربے کو ہی سب سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔