World
لبنانی شہریوں کی گھروں کو واپسی اور روم مذاکرات
اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے آٹھ لاکھ سے زائد لبنانی شہری اپنے علاقوں کا رخ کر چکے ہیں۔ اس صورتحال کے درمیان روم میں خطے کی کشیدگی اور بحالی کے امور پر اہم بین الاقوامی مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔
اسرائیلی فوجی جارحیت اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے آٹھ لاکھ سے زائد لبنانی شہری اب اپنے آبائی علاقوں کی جانب واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ شہری اپنے تباہ شدہ گھروں اور ملبے کے ڈھیروں کا جائزہ لینے کے لیے واپس آ رہے ہیں تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ ان کی املاک اور بستیوں میں سے کیا باقی بچا ہے۔ طویل نقل مکانی اور خیمہ بستیوں کی کٹھن زندگی گزارنے کے بعد ان لوگوں کے لیے اپنے وطن کی مٹی اور مانوس فضا میں واپس آنا ایک جذباتی لمحہ ہے، تاہم وہ شدید ترین نقصانات کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔
اس پیشرفت کے ساتھ ہی اٹلی کے دارالحکومت روم میں لبنان کے بحران، فائر بندی اور خطے میں پائیدار امن کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے۔ ان سفارتی کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جائے اور بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی بحالی کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ بین الاقوامی برادری اس بات پر زور دے رہی ہے کہ جنگ سے متاثرہ انفراسٹرکچر کو فوری طور پر بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عام شہریوں کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
دوسری جانب، امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے بعض 'پائلٹ زونز' کے نفاذ کے باوجود متاثرہ لبنانی عوام کو تاحال خاطر خواہ ریلیف نہیں مل سکا ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق جنوبی لبنان اور دیگر متاثرہ علاقوں میں تباہی کا عالم اتنا وسیع ہے کہ معمولی اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹرز بغیر سرحد (میڈیسنز سان فرنٹیئرز) اور دیگر فلاحی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ بنیادی سہولیات، صاف پانی اور طبی امداد کے بغیر واپسی کرنے والے خاندانوں کو شدید ترین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ روم میں جاری یہ مذاکرات اس بحران کے سیاسی حل اور مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ لبنانی عوام اپنے تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے دنیا بھر سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں، جبکہ مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے بے گھر ہونے والے ان آٹھ لاکھ سے زائد افراد کی بحالی کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ ایک بار پھر اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔