World
عراق کا کردستان خطہ علاقائی جنگوں سے باہر رہنا چاہتا ہے: مسرور بارزانی
عراق کے نیم خودمختار کردستان خطے کے وزیراعظم مسرور بارزانی نے واضح کیا ہے کہ ان کا خطہ خطے کی دیگر کشیدگیوں اور جنگوں سے الگ رہنا چاہتا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایک ہزار سے زائد حملوں کے باوجود ایران جنگ میں شامل ہونے کے لیے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا گیا۔
عراق کے نیم خودمختار خطے کردستان کے وزیراعظم مسرور بارزانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت خطے میں جاری کشیدگی اور علاقائی جنگوں سے ہر صورت باہر رہنا چاہتی ہے۔ الجزیرہ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کردستان کے عوام امن، استحکام اور معاشی ترقی کے خواہاں ہیں اور وہ کسی بھی ایسے تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے جو خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیل دے۔ مسرور بارزانی نے ان افواہوں اور اطلاعات کو بھی مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ کردستان پر ایران کے ساتھ جاری تنازع یا جنگ میں کودنے کے لیے کسی قسم کا بیرونی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ برسوں کے دوران خطے پر ایک ہزار سے زائد مختلف حملے ہو چکے ہیں، اس کے باوجود کردستان کی قیادت نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی سلامتی کو برقرار رکھتے ہوئے جنگ کا حصہ بننے سے گریز کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کردستان خطے نے ہمیشہ عراق اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں مصالحت اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال انتہائی حساس ہے اور اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر پڑ رہے ہیں۔ وزیراعظم مسرور بارزانی کے مطابق، ان کی اولین ترجیح اپنے شہریوں کا تحفظ اور خطے میں معاشی اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہے، جس کے لیے وہ تمام علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔