World
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ اور اسرائیل کی تشویش
اسرائیل میں قریب آنے والے انتخابات کے تناظر میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین ایک نئے ممکنہ دفاعی معاہدے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں اسرائیلی ردعمل اور اس کے خطے پر پڑنے والے اثرات تاحال غیر یقینی ہیں۔
خطے میں جاری سیاسی ہلچل اور انتخابات کے قریب آتے ہی اسرائیلی سیاسی حلقوں میں ایک اہم دفاعی پیشرفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ایک نئے ممکنہ دفاعی معاہدے کے خدوخال پر غور کیا جا رہا ہے جس نے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کے حوالے سے تاحال تفصیلی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ اتحاد عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے خطے کی سیاست اور بالخصوص اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
اسرائیل میں ہونے والے والے عام انتخابات سے قبل اس قسم کی دفاعی سرگرمیوں کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فیصلہ ساز حلقے اس بات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں کہ اگر پاکستان، ترکی اور سعودی عرب دفاعی میدان میں باضابطہ طور پر قریب آتے ہیں تو اس سے خطے میں طاقت کا توازن کس طرح تبدیل ہوگا۔ تینوںممالک کی عسکری اور سٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر، اس ممکنہ اتحاد کو عالمی سطح پر بھی ایک بڑی جیو پولیٹیکل تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اسرائیلی حکومت اور عسکری قیادت اپنی حکمت عملی پر از سر نو غور کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، اس معاہدے کے مضمرات کے بارے میں بین الاقوامی مبصرین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی تعاون خطے میں استحکام لانے اور کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے، جب کہ بعض دیگر حلقے اسے اسرائیل کے لیے ایک نئی سٹریٹجک چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں انتخابات کے نتائج اور اس نئے دفاعی معاہدے کی پیشرفت ہی یہ طے کرے گی کہ خطے کے ممالک کے باہمی تعلقات کا مستقبل کیا ہوگا اور اسرائیل اس ابھرتی ہوئی صورتحال کا کیا جواب دیتا ہے۔