LIVE
Loading Breaking News...

حماس کا غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کا عزم

News Image
حماس نے کہا ہے کہ وہ امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ تنظیم نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ معاہدے کے اگلے مرحلے پر عمل کرے۔
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے ہفتے کے روز ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے کے تحت آگے بڑھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ حماس کے ایک ذمہ دار عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تنظیم نے ثالثوں کو اس بات کی یقین دہانی کرا دی ہے کہ وہ معاہدے کے نفاذ اور اس کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ اسرائیل کی طرف سے بھی اس کی منظوری دی جائے اور اس پر عمل درآمد شروع کیا جائے۔ حماس نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کرنے پر مجبور ہو۔ حماس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کو آگاہ کیا تھا کہ وہ منصوبے کے اس آخری مرحلے پر قائم ہے جس کے تحت تنظیم جنگ زدہ علاقے میں ایک نئی فلسطینی انتظامی کمیٹی کے حوالے اپنے ہتھیار کرے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس معاہدے کے حوالے سے مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے بورڈ آف پیس کی جانب سے پیش کردہ مسودے کی باضابطہ منظوری نہیں دی ہے۔ نیتن یاہو کو اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں سخت سیاسی چیلنج کا سامنا ہے جبکہ ان کے دائیں بازو کے حامی بھی اس معاہدے کے سخت خلاف ہیں۔ ادھر غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں تاہم پچھلے چند دنوں کے دوران حملوں کی شدت میں کچھ کمی ضرور دیکھی گئی ہے۔ فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ برس اکتوبر سے جب دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، تب سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں بارہ سو سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے اپنے پانچ اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ عالمی برادری اور ثالثی کرنے والے ممالک اب بھی اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں فریقین کو امن معاہدے کی میز پر لایا جائے تاکہ غزہ میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے۔