LIVE
Loading Breaking News...

سال 2022 میں خریدی گئی مانع حمل اشیاء کا استعمال نہ ہونے کا انکشاف

News Image
سال 2022 کے دوران حکومت نے تقریباً گیارہ ملین مانع حمل اشیاء خریداری کے لیے حاصل کیں جن میں سے ایک بڑی تعداد تاحال استعمال نہیں ہو سکی ہے۔ اس صورتحال نے سرکاری وسائل کے بہتر استعمال اور منصوبہ بندی کے نظام پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے سنہ 2022 کے دوران تقریباً 11 ملین مانع حمل مصنوعات خریدی گئی تھیں جن میں سے بیشتر حصہ تاحال غیر استعمال شدہ حالت میں پڑا ہے۔ اس صورتحال نے متعلقہ محکموں کی کارکردگی اور حکومتی وسائل کے موثر استعمال کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے کیونکہ ملک میں آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ان مصنوعات کی بروقت تقسیم انتہائی اہمیت کی حامل تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح قیمتی قومی وسائل کا ضیاع اور منصوبہ بندی میں خامیوں کی نشاندہی ہوتی ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ خریداری اس مقصد کے تحت کی گئی تھی تاکہ ملک بھر میں خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں کو فروغ دیا جا سکے اور بڑھتی ہوئی آبادی کے رجحان کو قابو میں لایا جا سکے۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے جہاں لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں خریدی گئی یہ اشیاء متعلقہ گوداموں یا مراکز میں ہی دھول پھانکتی رہیں اور ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ سکیں۔ اس تاخیر اور غفلت کے نتیجے میں نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ فیملی پلاننگ کے قومی اہداف کو بھی شدید دھچکا لگا ہے۔ عوامی حلقوں اور ماہرین صحت نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے واقعے کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غفلت کے مرتکب ذمہ داران کا تعین کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخست اور غیر ذمہ دارانہ رویوں سے بچا جا سکے اور سرکاری فنڈز کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے تاکہ قومی خزانے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔