LIVE
Loading Breaking News...

پولینڈ میں ڈیٹا سینٹر کی حرارت سے گھر گرم کرنے کا منصوبہ

News Image
پولینڈ کے شہر وروتسواف میں ایک پراپرٹی ڈویلپر نے نئے ڈیٹا سینٹر سے نکلنے والی فالتو حرارت کو قریبی گھروں تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا اور کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔
یورپ میں بڑھتی ہوئی گرمی اور شدید موسم کے دوران اگرچہ گھروں کو مزید گرم کرنے کا خیال کسی کو عجیب لگ سکتا ہے، لیکن پولینڈ کی ایک پراپرٹی ڈویلپمنٹ کمپنی سٹی لنک نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جو سب کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت وروتسواف شہر میں قائم ہونے والے ایک نئے ڈیٹا سینٹر سے ضائع ہونے والی حرارت کو پکڑ کر اسے قریبی رہائشی اور تجارتی عمارتوں تک پہنچایا جائے گا۔ جدید دور میں جہاں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے ڈیٹا سینٹرز کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، وہیں ان سے خارج ہونے والی حد سے زیادہ گرمی ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج بھی بنتی جا رہی ہے۔ سٹی لنک کا یہ منصوبہ اس چیلنج کو ایک مفید موقع میں بدلنے کی کوشش ہے۔ ڈیٹا سینٹرز میں رکھے گئے سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں کولنگ سسٹمز کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کثیر مقدار میں گرم ہوا یا پانی خارج ہوتا ہے جو عام طور پر ضائع ہو جاتا ہے۔ اس نئی تکنیک کے ذریعے اس فالتو گرمی کو ضائع کرنے کے بجائے ایک ری سائیکلنگ سسٹم کے تحت قریبی عمارتوں کے نظامِ حرارت یعنی ڈسٹرکٹ ہیٹنگ میں استعمال کیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف روایتی ایندھن پر انحصار کم ہوگا بلکہ سردیوں کے موسم میں مقامی رہائشیوں کو سستی حرارت بھی میسر آئے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منصوبے مستقبل کے سبز شہروں (Green Cities) کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے جدید انفراسٹرکچر اور بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، تاہم طویل مدت میں یہ توانائی کے بحران سے نمٹنے اور ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بہترین قدم ثابت ہوگا۔ پولینڈ کا یہ انوکھا اقدام دیگر یورپی ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے جو اپنے ڈیٹا سینٹرز کو زیادہ ماحول دوست بنانے کے خواہشمند ہیں۔