World
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے آنروا کی اہمیت اور مستقبل پر خدشات
اقوام متحدہ کی ایجنسی آنروا لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی زندگی کا اہم ترین حصہ بن چکی ہے جو دہائیوں سے ان کی بنیادی ضروریات پوری کر رہی ہے۔ موجودہ تباہ حال غزہ میں اس ادارے کے بغیر انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) صرف ایک بین الاقوامی ادارہ نہیں ہے بلکہ یہ لاکھوں فلسطینیوں کے لیے بقا کی آخری امید اور ان کی شناخت کا حصہ بن چکی ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ ان کی پیدائش سے لے کر اب تک ان کی زندگی کے ہر موڑ پر موجود رہا ہے، چاہے وہ تعلیم کی فراہمی ہو، صحت کی سہولیات ہوں یا خوراک کی ترسیل۔ آج جب غزہ شدید تباہی اور نسل کشی جیسے حالات سے گزر رہا ہے، تو اس ادارے کی موجودگی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پناہ گزینوں کے مطابق، آنروا کے بغیر ان کی روزمرہ کی زندگی کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ وہاں کی آبادی مکمل طور پر بیرونی امداد پر انحصار کرتی ہے۔ ایسے میں اگر آنروا جیسی مستند اور تجربہ کار تنظیم کو کام کرنے سے روکا جاتا ہے یا اس کی فنڈنگ بند کی جاتی ہے، تو اس کے اثرات براہ راست عام شہریوں کی جانوں پر پڑیں گے۔ طبی سہولیات کی فراہمی سے لے کر بچوں کے سکولوں اور خوراک کے مراکز تک، یہ ادارہ ایک سماجی ڈھانچے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ غزہ کے پناہ گزینوں کا یہ ماننا ہے کہ عالمی برادری کو اس ادارے کی حمایت جاری رکھنی چاہیے کیونکہ اس کے متبادل کے طور پر کوئی اور ادارہ اس بڑے پیمانے پر خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
حالیہ برسوں میں سیاسی دباؤ اور فنڈز کی کمی نے آنروا کے کام کو متاثر کیا ہے، لیکن غزہ کے مکینوں کے لیے یہ ادارہ ابھی بھی زندگی کی علامت ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کا مطالبہ ہے کہ عالمی طاقتیں انسانی بنیادوں پر اس ادارے کی اہمیت کو سمجھیں اور اسے سیاسی تنازعات سے دور رکھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی فلسطینیوں پر مشکل وقت آیا، آنروا نے ایک سہارے کے طور پر ان کا ساتھ دیا ہے۔ مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ جب تک ان کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا، یہ ادارہ ان کی زندگیوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے بغیر انسانی المیہ ایک ناقابل تصور حد تک پھیل سکتا ہے۔