Technology
گوگل پکسل واچ 5: ایپل واچ کے ڈیزائن پر گوگل کا حیران کن وار
گوگل نے اپنی نئی پکسل واچ 5 کے ٹریلر میں ایپل واچ کے ڈیزائن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی ڈیوائس کو بہتر قرار دیا ہے۔ اس اقدام سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں دونوں کمپنیوں کے درمیان حریفانہ رویے میں مزید شدت آگئی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی دو بڑی حریف کمپنیوں، گوگل اور ایپل کے درمیان مسابقت اب ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ گوگل نے حال ہی میں اپنی آنے والی اسمارٹ واچ 'پکسل واچ 5' کا ایک نیا ٹریلر جاری کیا ہے، جس میں کمپنی نے ایپل واچ کے ڈیزائن کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ گوگل کے اس جارحانہ مارکیٹنگ انداز نے ٹیکنالوجی کے ماہرین اور صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے، کیونکہ عام طور پر گوگل اپنی تشہیر میں براہ راست حریفوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرتا ہے۔ ٹریلر میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح پکسل واچ کا گول ڈیزائن اور خوبصورت ظاہری شکل، ایپل واچ کے روایتی مربع ڈیزائن سے کہیں زیادہ جدید اور سجیلا محسوس ہوتی ہے۔
اس نئے ٹریلر میں گوگل نے پکسل واچ 5 کی سافٹ ویئر صلاحیتوں اور اینڈرائیڈ ایکو سسٹم کے ساتھ اس کے ہموار انضمام پر خاص طور پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ گوگل اب سمارٹ واچ مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف ایپل واچ دہائیوں سے اس مارکیٹ پر اپنی حکمرانی قائم رکھے ہوئے ہے، وہیں گوگل کی پکسل واچ 5 ایک ایسی ڈیوائس کے طور پر سامنے آ رہی ہے جو جمالیات اور فعالیت دونوں میں ایپل کے سخت مقابل ہے۔ گوگل کی جانب سے اس طرح کا براہ راست طنز یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ کمپنی اب مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
صارفین کی آراء اس حوالے سے تقسیم نظر آتی ہیں۔ جہاں کچھ لوگ گوگل کے اس نئے ڈیزائن اور جرات مندانہ مارکیٹنگ کو سراہ رہے ہیں، وہیں ایپل کے وفادار صارفین کا ماننا ہے کہ ڈیزائن ایک ذاتی ترجیح کا معاملہ ہے اور ایپل واچ کا موجودہ ڈیزائن اب ایک پہچان بن چکا ہے۔ گوگل پکسل واچ 5 کے اس ٹریلر نے نہ صرف مصنوعات کے فیچرز پر بحث چھیڑ دی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ سمارٹ واچ مارکیٹ میں مقابلہ اب صرف ہارڈ ویئر تک محدود نہیں رہا بلکہ برانڈ کی شناخت اور ڈیزائن کی جنگ بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا گوگل کا یہ اقدام اسے ایپل واچ کے صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں مدد دیتا ہے یا نہیں۔