Technology
بھارت کا پہلا نجی ری یوز ایبل راکٹ انجن: ایسٹرو بیس کی بڑی پیش رفت
اسٹرو بیس اسپیس ٹیکنالوجیز نے بھارت کا پہلا نجی طور پر تیار کردہ 800 کلو نیوٹن فل فلو سٹیجڈ کمبشن راکٹ انجن پیش کر دیا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی خلائی صنعت میں نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی مہارت اور صلاحیتوں کا ایک اہم سنگ میل ہے۔
بھارت کی خلائی ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے اسٹرو بیس اسپیس ٹیکنالوجیز نے ملک کا پہلا نجی طور پر تیار کردہ 'فل فلو سٹیجڈ کمبشن' (FFSC) راکٹ انجن متعارف کروا دیا ہے۔ یہ جدید ترین انجن 800 کلو نیوٹن کی زبردست قوت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے نجی خلائی شعبے میں بھارت کی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ کمپنی کے مطابق، یہ انجن نہ صرف جدید ڈیزائن کا حامل ہے بلکہ یہ ری یوز ایبل یعنی دوبارہ قابل استعمال ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو خلائی سفر کی لاگت کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس ٹیکنالوجی کا تعارف عالمی خلائی منڈی میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔
اس انجن کی سب سے اہم خصوصیت اس کی کارکردگی اور فل فلو سٹیجڈ کمبشن سائیکل کا استعمال ہے، جو انتہائی پیچیدہ اور جدید ترین راکٹ سائنس کا حصہ مانا جاتا ہے۔ اس سے قبل اس قسم کی ٹیکنالوجی پر کام کرنا صرف چند عالمی خلائی ایجنسیوں کے لیے ممکن تھا، تاہم اسٹرو بیس نے اسے نجی شعبے میں لا کر ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ کمپنی کے انجینئرز کا ماننا ہے کہ یہ انجن مستقبل کے بھاری کارگو مشنز اور دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ سسٹم کے لیے ایک بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے گا۔ اس پیش رفت سے نہ صرف مقامی خلائی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت کے نجی خلائی اسٹارٹ اپس کی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔
ماہرین کے مطابق، دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ انجن خلائی تحقیق کے مستقبل کی ضرورت ہیں، کیونکہ یہ لانچنگ کے اخراجات میں نمایاں کمی لاتے ہیں۔ اسٹرو بیس کی اس کامیابی سے اب چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے خلا تک رسائی آسان ہو سکتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے اگلے مراحل میں اس انجن کی زمینی جانچ اور تجرباتی لانچ کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کامیابی نے دیگر نجی خلائی کمپنیوں کے لیے بھی ایک نیا معیار مقرر کر دیا ہے، جس کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ بھارت جلد ہی عالمی خلائی معیشت کا ایک بڑا مرکز بن کر ابھرے گا۔ اس ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ نہ صرف کمپنی کی تکنیکی مہارت ثابت کرتا ہے بلکہ یہ ملک کی خود انحصاری کے سفر میں بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔