Business
ایس اے ٹی کا فیصلہ: سیبی کے خلاف اپیلوں میں دوگنا اضافہ
سیکیورٹیز اپیلٹ ٹریبونل نے مالی سال 2025-26 کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا کے 47 احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں ٹریبونل کی جانب سے منظور کی گئی اپیلوں اور ترمیم شدہ فیصلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کے لیے حالیہ اعداد و شمار ایک بڑی چیلنج کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ سیکیورٹیز اپیلٹ ٹریبونل (SAT) نے مالی سال 26-2025 کے دوران ریگولیٹر کے 47 احکامات کو مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ تعداد گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ گزشتہ برس ٹریبونل نے صرف 23 اپیلوں کو ہی منظور کیا تھا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ ریگولیٹر کے قانونی فیصلوں اور تحقیقاتی عمل پر عدالتی جانچ پڑتال میں اضافہ ہوا ہے۔
صرف فیصلوں کو کالعدم قرار دینے تک ہی معاملہ محدود نہیں ہے بلکہ ٹریبونل کی جانب سے سیبی کے احکامات میں ترمیم کرنے کا رجحان بھی تیزی سے بڑھا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال کے مقابلے میں ترمیم شدہ احکامات کی تعداد بھی دگنی ہو گئی ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیبی کی جانب سے عائد کردہ سزاؤں اور جرمانوں کے خلاف اپیل کنندگان کا ٹریبونل سے رجوع کرنا اب زیادہ کامیاب ثابت ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ریگولیٹری ادارے کو اپنے کام کرنے کے طریقہ کار اور قانونی بنیادوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں بھارتی حصص بازار کے ریگولیٹری ماحول میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سرمایہ کار اور کارپوریٹ ادارے اب سیبی کے فیصلوں کو قانونی عدالتوں میں زیادہ اعتماد کے ساتھ چیلنج کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایس اے ٹی کا یہ رویہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ ریگولیٹری فیصلوں میں شفافیت اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ سیبی اب ان عدالتی فیصلوں کا گہرائی سے جائزہ لے رہا ہے تاکہ مستقبل میں جاری ہونے والے نوٹسز اور احکامات قانونی طور پر زیادہ مستحکم ہوں۔
مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو، ریگولیٹری اداروں کے لیے یہ ایک انتباہ ہے کہ ان کے ہر فیصلے کی جانچ پڑتال کا عمل اب زیادہ سخت ہو چکا ہے۔ اس رجحان کا اثر طویل مدتی طور پر کارپوریٹ گورننس اور مارکیٹ کے نظم و ضبط پر پڑے گا۔ مارکیٹ کے شرکاء اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا سیبی اپنے طریقہ کار میں کوئی بڑی تبدیلی لائے گا تاکہ عدالتی مداخلت کو کم کیا جا سکے۔ بہرحال، یہ اعداد و شمار بھارتی مالیاتی نظام کی خود مختاری اور عدالتی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔