Business
E20 پیٹرول کے معیار پر سرکاری تیل کمپنیوں کا اہم بیان
سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ پیٹرول کے نمونوں کی جانچ میں کلورائیڈ اور نمی کی سطح مقررہ معیارات کے مطابق پائی گئی ہے۔ کمپنی ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔
پبلک سیکٹر کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) نے جمعہ کے روز ان تمام دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ E20 فیول (ایتھنول ملا پیٹرول) میں 500 پی پی ایم سے زائد کلورائیڈ اور نمی موجود ہے۔ تیل کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کی مختلف ریفائنریز سے تصادفی طور پر منتخب کردہ 100 سے زائد پیٹرول کے نمونوں کی لیبارٹری جانچ مکمل کر لی گئی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کلورائیڈ کی مقدار مسلسل انتہائی کم سطح پر ہے اور ایندھن کی کوالٹی مقررہ بین الاقوامی معیارات کے عین مطابق ہے۔
کمپنیوں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر E20 ایندھن کے حوالے سے کچھ گمراہ کن معلومات پھیلائی جا رہی تھیں، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایندھن میں نمی اور کلورائیڈ کی آمیزش گاڑیوں کے انجن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ان دعووں پر کارروائی کرتے ہوئے تکنیکی ماہرین کی ایک ٹیم نے جامع سروے کیا جس میں جدید آلات اور بین الاقوامی پروٹوکولز کا استعمال کیا گیا۔ ٹیسٹ کے نتائج سے واضح ہوا ہے کہ ایندھن میں نمی کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ گاڑیوں کے استعمال کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پیٹرول کی سپلائی چین کے ہر مرحلے پر کوالٹی کنٹرول کے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں۔ ریفائنری سے لے کر پیٹرول پمپ تک ایندھن کی منتقلی کے دوران بھی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کی جاتی ہے تاکہ صارفین تک معیاری مصنوعات پہنچ سکیں۔ کمپنیوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بغیر تصدیق شدہ خبروں اور افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری اداروں کے جاری کردہ ڈیٹا پر ہی اعتماد کریں۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے ایندھن کی کھپت میں ایتھنول کی آمیزش کا مقصد نہ صرف درآمدی بل میں کمی لانا ہے بلکہ ماحول دوست ایندھن کو فروغ دینا بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی میں بہتری کے ساتھ ساتھ اب انجن اس بات کے لیے تیار ہیں کہ وہ ایتھنول کی متوازن مقدار کو کامیابی سے استعمال کر سکیں۔ تیل کمپنیاں آئندہ بھی ایندھن کے معیار کی جانچ کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے کوشاں رہیں گی تاکہ صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔