Health
سینیٹیشن ورکرز کی حفاظت کے لیے ریکٹ کا نیا اقدام: SAFER چیلنج کیا ہے؟
ریکٹ اور ایڈمنسٹریٹو اسٹاف کالج آف انڈیا نے صفائی کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک جدید قومی چیلنج سیفر متعارف کروا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکنالوجی اور اختراعی خیالات کے ذریعے سینیٹیشن ورکرز کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔
نئی دہلی میں ایک اہم پیش رفت کے دوران، مشہور بین الاقوامی کمپنی ریکٹ (Reckitt) اور ایڈمنسٹریٹو اسٹاف کالج آف انڈیا (ASCI) نے مشترکہ طور پر سینیٹیشن ورکرز یعنی صفائی کرنے والے کارکنوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے ایک قومی سطح کا اختراعی چیلنج 'سیفر' (SAFER) لانچ کیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صفائی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران انتہائی خطرناک صورتحال اور صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس چیلنج کا بنیادی مقصد ایسی جدید ٹیکنالوجیز اور تخلیقی حل تلاش کرنا ہے جو ان کارکنوں کو حادثات اور بیماریوں سے بچا سکیں۔
اس چیلنج کے تحت ملک بھر سے ماہرین، محققین، اسٹارٹ اپس اور طلباء کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ایسے آئیڈیاز پیش کریں جو صفائی کے کام کو خودکار بنانے یا حفاظتی آلات میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوں۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ اگر سائنسی بنیادوں پر کام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو انسانی جانوں کو درپیش خطرات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ یہ مقابلہ نہ صرف نئے خیالات کی حوصلہ افزائی کرے گا بلکہ ان آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فنڈنگ اور رہنمائی بھی فراہم کرے گا تاکہ صفائی کا شعبہ مزید محفوظ اور باعزت بن سکے۔
واضح رہے کہ سینیٹیشن ورکرز معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں جو شہروں کی صفائی اور حفظان صحت کو برقرار رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم ان کی اپنی حفاظت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔ ریکٹ اور اے ایس سی آئی کا یہ مشترکہ پلیٹ فارم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ صفائی کے کام میں ملوث افراد کو جدید ترین حفاظتی آلات اور ضروری آگاہی فراہم کی جائے۔ اس اقدام سے امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں صفائی کے کام کے دوران ہونے والے حادثات میں بڑی حد تک کمی آئے گی اور کارکنوں کو ایک محفوظ ورکنگ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔