India
آسام میں سیلاب کے نقصانات کا ڈیجیٹل سروے شروع
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں نقصانات کا درست تخمینہ لگانے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل سروے پروگرام کا افتتاح کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکنالوجی کے استعمال سے سیلاب زدگان کو بروقت اور شفاف ریلیف فراہم کرنا ہے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے ریاست میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے درست جائزے اور تخمینے کے لیے ایک اہم ڈیجیٹل سروے تربیتی پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ خاص طور پر ان چار اضلاع کے لیے شروع کیا گیا ہے جو حالیہ سیلابی ریلوں اور بارشوں کے باعث شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے حکومتی عہدیداران اور سروے کرنے والی ٹیمیں نقصانات کا تفصیلی اور شفاف ریکارڈ مرتب کریں گی تاکہ متاثرین کی بروقت اور مؤثر طریقے سے مدد ممکن بنائی جا سکے۔
اس پروگرام کا باقاعدہ آغاز 9 اگست سے ہوا ہے، جس کے تحت تربیت یافتہ سرویئرز کو جدید آلات اور سافٹ ویئر کے استعمال کی تربیت دی جائے گی۔ یہ سرویئرز گھر گھر جا کر ڈیجیٹل ایپلیکیشنز کے ذریعے نقصانات کا ڈیٹا اکٹھا کریں گے، جس سے انسانی غلطیوں کا امکان کم ہو جائے گا اور ریلیف آپریشنز میں شفافیت آئے گی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ روایتی طریقہ کار کے بجائے ڈیجیٹل سروے سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ درست ڈیٹا کی بدولت امدادی رقوم کی تقسیم بھی زیادہ بہتر طریقے سے ممکن ہوسکے گی۔
وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ آسام کی جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر ہر سال سیلاب ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت جمع کیا جانے والا جامع ڈیٹا مستقبل میں سیلاب سے بچاؤ کی حکمت عملی بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس سروے عمل کی نگرانی کریں تاکہ کسی بھی متاثرہ خاندان کو امداد سے محروم نہ رکھا جائے۔
یہ اقدام ریاست کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ پالیسی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سروے کے بعد تمام ڈیٹا کو ایک مرکزی ڈیٹا بیس میں ضم کیا جائے گا جس سے حکومت کو سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے پالیسیاں مرتب کرنے میں آسانی ہوگی۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس ڈیجیٹل اقدام کے ذریعے آسام کے سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی کا عمل تیز تر اور زیادہ مربوط انداز میں مکمل کیا جا سکے گا۔