Technology
نیو یارک: اسکول میں روبوٹ کے استعمال کا متنازع منصوبہ معطل
مغربی نیو یارک کے ایک اسکول ڈسٹرکٹ نے شدید عوامی ردعمل اور ریاستی محکمہ تعلیم کے دباؤ کے بعد ہائی اسکول کی کلاس میں ہیومنائڈ روبوٹ نصب کرنے کا منصوبہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔ والدین اور اساتذہ کی جانب سے اس قدم پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا کہ اس سے طلباء کی ذاتی نوعیت کی تعلیم اور انسانی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
مغربی نیو یارک کے ایک اسکول ڈسٹرکٹ نے اس خزاں میں ہائی اسکول کے کلاس رومز میں ایک ہیومنائڈ روبوٹ متعارف کرانے کے اپنے متنازع منصوبے کو فی الحال روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب والدین، اساتذہ اور مقامی برادری کی جانب سے شدید عوامی ردعمل اور مخالفت کا اظہار کیا گیا۔ اس کے علاوہ ریاست کے محکمہ تعلیم کی طرف سے بھی اس منصوبے پر کڑی نظر رکھی جا رہی تھی، جس کے بعد حکام کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسکول انتظامیہ کا ابتدائی مقصد تدریسی عمل میں جدید مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا تھا، تاکہ طلباء کو مستقبل کی ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جا سکے۔ تاہم، اس اقدام کے ناقدین کا کہنا تھا کہ کلاس رومز میں انسانوں کی جگہ روبوٹ کا استعمال طلباء کی جذباتی نشوونما اور استاد اور شاگرد کے درمیان پائیدار تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ والدین کا یہ بھی خدشہ تھا کہ بچوں کا ذاتی ڈیٹا اور ان کی سرگرمیاں نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں جا سکتی ہیں، جس سے ڈیٹا کی سکیورٹی اور رازداری کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسکول بورڈ کے عہدیداران نے بتایا کہ وہ عوامی خدشات کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور کسی بھی بڑے قدم اٹھانے سے پہلے تمام فریقین سے تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال اس منصوبے کو مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا گیا بلکہ اس پر سنجیدہ غور و فکر کے لیے عمل کو عارضی طور پر روکا گیا ہے تاکہ تمام قانونی اور اخلاقی پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس عالمی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت اور جدید روبوٹکس کا استعمال کس حد تک مناسب ہے اور اس کے طویل مدتی اثرات طلباء کی شخصیت پر کیا مرتب ہو سکتے ہیں۔