Politics
بلوچستان کی سیاست: رئیسانی برادران کے اعتراضات اور محمود خان اچکزئی کا بیانیہ
بلوچستان کی سیاست میں مستونگ اور کچھی کو بالترتیب کوئٹہ اور سبی ڈویژن میں شامل کرنے کے فیصلے پر نواب اسلم رئیسانی اور لشکری رئیسانی کے اعتراضات نے نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل محمود خان اچکزئی کے نسلی اور علاقائی بیانیے کو تقویت دینے کا باعث بن سکتا ہے۔
بلوچستان کی سیاست ایک بار پھر ایسے بیانات کی زد میں ہے جنہوں نے عوام کے ذہنوں میں کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ نواب اسلم رئیسانی، نوابزادہ لشکری رئیسانی اور محمود خان اچکزئی کے حالیہ مؤقف نہ صرف سیاسی بحث کا موضوع بنے ہیں بلکہ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہو رہا ہے کہ انتظامی معاملات کو قومی اور نسلی حساسیت کے مخصوص زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ محمود خان اچکزئی اکثر یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ کوئٹہ اور سبی پشتون علاقے ہیں اور پشین ماضی میں کوئٹہ کا حصہ تھا، جبکہ دوسری جانب رئیسانی برادران مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے اور کچھی کو سبی ڈویژن میں رکھنے کے حوالے سے شدید اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئٹہ اور سبی بلوچستان کے تاریخی اور انتظامی مراکز ہیں تو ان کے قریب ترین اضلاع کی شمولیت پر اس قدر شدید ردعمل کیوں سامنے آ رہا ہے۔
جغرافیائی اور انتظامی اعتبار سے مستونگ کوئٹہ سے براہ راست منسلک ضلع ہے، جبکہ کچھی کی سبی کے ساتھ تاریخی اور جغرافیائی وابستگی بھی ناقابل تردید ہے۔ اس تناظر میں ان اضلاع کو متعلقہ ڈویژنوں میں شامل کرنا ایک خوش آئند انتظامی اقدام قرار دیا جا سکتا ہے جس سے کوئٹہ اور سبی کی بطور انتظامی مراکز حیثیت مزید مستحکم ہوگی۔ یہ علاقے طویل عرصے سے بلوچستان کی تاریخ اور انتظامی ڈھانچے میں مرکزی اہمیت رکھتے آئے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ان اضلاع کی شمولیت سے کوئٹہ اور سبی ڈویژن میں بلوچ اقوام کی گرفت مزید مضبوط ہوگی، تاہم رئیسانی برادران کا سیاسی مؤقف اس معاملے کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا رئیسانی برادران کے یہ اعتراضات، دانستہ یا غیر دانستہ طور پر، محمود خان اچکزئی کے اس بیانیے کو تقویت نہیں دے رہے جس میں انتظامی حدود کو شناخت اور قومیت کی سیاست سے جوڑا جاتا ہے؟ اگر عوامی حلقوں میں ایسا تاثر پیدا ہو رہا ہے تو اس کی وضاحت کرنا ان سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے یقینی اور بداعتمادی کا خاتمہ ہو سکے۔ بلوچستان پہلے ہی سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات، بے روزگاری اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے نازک حالات میں سیاسی قیادت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کو ترقی، تعلیم، صحت اور انصاف جیسے بنیادی مسائل پر متحد کرے۔
آخر میں، اختلافِ رائے ہر سیاسی رہنما کا آئینی حق ہے، مگر اس اختلاف کی بنیاد ٹھوس حقائق اور عوامی مفاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے بیانیوں پر جو صوبے کے مختلف طبقات اور قومیتوں کے درمیان مزید تقسیم کا سبب بنیں۔ انتظامی ضرورتوں کو نسلی سیاست کی نذر کرنے کے بجائے انہیں عوامی سہولت کے تناظر میں دیکھا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر بلوچستان کو مستحکم بنانا ہے تو سیاسی قیادت کو ایسے بیانات سے گریز کرنا ہوگا جو معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔