Politics
نکولا اسٹرجن کی پیٹر مرل سے دوری، ذاتی زندگی پر اہم انکشافات
اسکاٹ لینڈ کی سابق وزیر اول نکولا اسٹرجن نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر پیٹر مرل سے ان کے جیل جانے کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پیٹر مرل سے ملنے کے لیے جیل جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔
اسکاٹ لینڈ کی سابق وزیر اول نکولا اسٹرجن نے ایک حالیہ پوڈ کاسٹ انٹرویو کے دوران اپنی نجی زندگی اور اپنے شوہر پیٹر مرل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ اسٹرجن نے واضح طور پر بتایا ہے کہ جب سے ان کے شوہر پیٹر مرل کو ایس این پی فنڈز میں خرد برد کے جرم میں سزا سنائی گئی اور وہ جیل گئے، تب سے ان کے درمیان کوئی بات چیت یا رابطہ نہیں ہوا ہے۔ یہ انکشاف اسکاٹ لینڈ کے سیاسی حلقوں میں ایک بڑی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے کیونکہ دونوں شخصیات برسوں تک اسکاٹش نیشنل پارٹی کی سیاست کا مرکزی حصہ رہی ہیں۔
اسٹرجن نے پوڈ کاسٹ کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اپنے شوہر سے ملاقات کے لیے جیل جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے حالات انتہائی تکلیف دہ رہے ہیں اور فی الحال وہ اپنی اور اپنی زندگی کی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر بہت زیادہ تفصیلات تو فراہم نہیں کیں، لیکن ان کا رویہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قانونی کارروائیوں اور مالیاتی اسکینڈلز نے ان کے ازدواجی تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
پیٹر مرل کو ایس این پی (SNP) فنڈز کے غلط استعمال اور خرد برد کے الزامات میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا، جس کے بعد انہیں قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کیس نے نہ صرف اسکاٹش نیشنل پارٹی کی ساکھ کو شدید متاثر کیا بلکہ نکولا اسٹرجن کے سیاسی کیریئر پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اسٹرجن نے ہمیشہ ان الزامات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، تاہم ان کے شوہر کی سزا نے انہیں ایک مشکل سیاسی اور سماجی صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ نکولا اسٹرجن کا یہ عوامی بیان دراصل اپنے سیاسی مستقبل کو ان اسکینڈلز سے دور رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے بعد، اب اسٹرجن خود کو پارٹی کی سابقہ قیادت کے متنازع فیصلوں سے الگ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ فی الحال، ان کا یہ بیان کہ وہ اپنے شوہر سے نہ تو رابطہ کر رہی ہیں اور نہ ہی ان سے ملنے جائیں گی، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ذاتی اور عوامی سطح پر اب وہ ان تمام تنازعات سے ایک واضح لکیر کھینچ چکی ہیں۔