World
کوسوو پارلیمنٹ میں ہنگامہ، اپوزیشن رکن کا وزیراعظم پر انڈوں سے حملہ
کوسوو کی پارلیمنٹ میں ایک ہنگامہ خیز اجلاس کے دوران اپوزیشن کے ایک قانون ساز نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے۔ اس ناخوشگوار واقعے کے بعد ایوان میں کشیدگی پھیل گئی اور سکیورٹی اہلکاروں کو مداخلت کرنا پڑی۔
کوسوو کی پارلیمنٹ میں ایک انتہائی غیر معمولی اور ہنگامہ خیز واقعے میں اپوزیشن کے ایک قانون ساز نے قائم مقام وزیراعظم البن کورتی پر پارلیمانی سیشن کے دوران انڈے پھینک دیے۔ یہ واقعہ ایوان میں جاری ایک اہم بحث کے دوران پیش آیا، جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ پارلیمنٹ کی کارروائی کے براہ راست نشر ہونے والے مناظر میں دیکھا گیا کہ اپوزیشن رکن نے اچانک اپنی نشست سے اٹھ کر وزیراعظم کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس اچانک حملے کے بعد پارلیمنٹ کے اندر شدید شور شرابا شروع ہو گیا اور دونوں اطراف کے اراکین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکار حرکت میں آگئے اور فوری طور پر وزیراعظم کے گرد حصار بنا لیا تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ سکیورٹی عملے نے صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے اور کارروائی میں خلل ڈالنے والے رکن کو ایوان سے باہر نکالنے کے لیے کارروائی کی۔ کوسوو کے اس سیاسی بحران نے ملک میں پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، اور تجزیہ کار اسے جمہوری اداروں میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور سیاسی عدم استحکام کی ایک اور کڑی قرار دے رہے ہیں۔
حکومتی جماعت اور اتحادیوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے پارلیمانی روایات اور جمہوری اقدار کی توہین قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات کو مذاکرات اور بحث کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے نہ کہ اس طرح کے پُرتشدد یا تضحیک آمیز طریقوں سے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی غصہ پارلیمنٹ کے اندر بھی ظاہر ہو رہا ہے اور ملک میں فوری طور پر نئے سیاسی فیصلوں کی ضرورت ہے۔
اس واقعے کے بعد کوسوو کی پارلیمنٹ کا اجلاس کچھ دیر کے لیے معطل کرنا پڑا تاکہ ماحول کو پرسکون کیا جا سکے اور سکیورٹی کے انتظامات کا از سر نو جائزہ لیا جا سکے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس واقعے کے بعد ملک میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھے گا اور آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی میں شدت آنے کا اندیشہ ہے۔ پولیس اور پارلیمانی کمیٹی نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ ملوث رکن کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔