Pakistan
میر رضا علی کیس: تشدد کے بعد قتل کا انکشاف اور پولیس کی تحقیقات پر سوالات
کاروباری شخصیت میر رضا علی کی موت کے معاملے پر ان کے اہلخانہ اور وکیل جبران ناصر نے اسے قتل قرار دیتے ہوئے موجودہ تحقیقاتی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب مقتول کی لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے تاکہ تشدد اور موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پیش آنے والے میر رضا علی کے المناک واقعے کے بعد اب معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ مقتول کے اہلخانہ اور ان کے وکیل ایڈووکیٹ جبران ناصر نے ہفتے کے روز پریس کانفرنس کے دوران الزامات عائد کیے کہ 25 سالہ نوجوان کاروباری شخصیت کو انتہائی بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔ ایڈووکیٹ جبران ناصر کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی ابتدائی رپورٹ اور لاش کے دوبارہ معائنے سے حاصل ہونے والے شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل ہے۔ ان کے مطابق رضا کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے، جن میں جبڑے پر چوٹ، ناک کی ہڈی کا ٹوٹنا، اور گردن کے پٹھوں میں زخم شامل ہیں جو کہ گلا گھونٹے جانے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
وکیل نے مزید انکشاف کیا کہ مقتول کے منہ کے اندر سے ایک نامعلوم سیاہ مادہ برآمد ہوا ہے جس کے نمونے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا انہیں زبردستی کوئی زہریلی چیز پلائی گئی تھی۔ جبران ناصر نے پولیس کی تفتیشی ٹیم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ پولیس افسران، بشمول اے آئی جی اور ایس ایس پی، مسلسل اہلخانہ پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ اسے خودکشی کا واقعہ تسلیم کر لیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تفتیشی ٹیم حقائق کو چھپا رہی ہے اور والدین کو ہراساں کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ تحقیقاتی ٹیم کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے کیونکہ اہلخانہ کا ان پر سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے۔
دوسری جانب میر رضا علی کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے دن سے ہی کہہ رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے، لیکن پولیس نے معاملے کو الجھانے کے لیے اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی مداخلت کے بعد ہی کیس میں پیش رفت ہوئی ہے۔ دریں اثنا، پیپلز پارٹی کے وفد نے بھی مقتول کے گھر کا دورہ کیا اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ قانونی ماہرین اس کیس کو ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں جہاں پولیس کی تفتیشی صلاحیتوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔