LIVE
Loading Breaking News...

امریکی تجارتی پابندیاں، پولی سلیکون کی درآمدات پر نئے ٹیکس عائد

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیمی کنڈکٹرز اور سولر پینلز میں استعمال ہونے والے اہم مادہ پولی سلیکون کی درآمد پر 15 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں چین کے غلبے کو کم کرنا اور امریکی صنعتی پیداوار کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے خلاف تجارتی محاذ کھولتے ہوئے سیمی کنڈکٹرز اور سولر پینلز کی تیاری میں استعمال ہونے والے بنیادی مادہ 'پولی سلیکون' کی درآمدات پر 15 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں جاری کشیدگی میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی سپلائی چین کو چینی انحصار سے آزاد کرانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان ہے، تاہم امریکی انتظامیہ اسے اپنی قومی سلامتی اور صنعتی خود مختاری کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے۔ اس نئے تجارتی اقدام کے تحت، چین سے آنے والی پولی سلیکون کی کھیپوں پر اضافی محصولات عائد کیے جائیں گے، جو سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ سیمی کنڈکٹرز موجودہ دور کی جدید ٹیکنالوجی جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس، الیکٹرک گاڑیاں، اور دفاعی آلات کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ چین برسوں سے اپنی مصنوعات کو سبسڈی دے کر عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کو متاثر کر رہا ہے، جس سے امریکی کمپنیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اب اس 15 فیصد ٹیرف کے ذریعے واشنگٹن مقامی صنعتوں کو مسابقتی برتری دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب چینی حکام نے اس اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ یکطرفہ فیصلہ عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو نقصان پہنچائے گا اور اس سے تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی الیکٹرانکس مارکیٹ پر پڑے گا، کیونکہ پولی سلیکون کی سپلائی چین کے متاثر ہونے سے اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور شمسی توانائی کے آلات کی پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے۔ یہ صورتحال آنے والے وقت میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے اتحاد اور سپلائی چین کی تنظیم نو کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ اپنی مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے کوشاں ہے، وہیں چین بھی متبادل منڈیاں تلاش کرنے پر غور کر رہا ہے۔ عالمی تجارتی مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان یہ تجارتی محاذ آرائی جاری رہتی ہے تو یہ نہ صرف عالمی جی ڈی پی بلکہ عام صارفین کی قوت خرید پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گی۔ فی الحال دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ بیجنگ اس ٹیرف کے جواب میں کیا جوابی کارروائی کرتا ہے۔