LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈین سیاستدان کی اے آئی چیٹ بوٹ کی ہدایات اسمبلی میں پڑھنے کی ویڈیو وائرل

News Image
کینیڈا کے صوبے نیو برنزوک کی قانون ساز اسمبلی میں اس وقت ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب ایک سیاستدان نے تقریر کے دوران غلطی سے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی چیٹ بوٹ کے اندرونی احکامات کو بھی بلند آواز میں پڑھ دیا۔ اس واقعے نے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے غیر محتاط استعمال پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔
کینیڈا کے صوبے نیو برنزوک کی قانون ساز اسمبلی میں ایک ایسا انوکھا واقعہ پیش آیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر ہنسی کا طوفان برپا کرنے کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے استعمال پر سنجیدہ سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ ایک مقامی سیاستدان نے پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران اس بات کا بالکل احساس نہیں کیا کہ وہ جس متن کو پڑھ رہے ہیں، وہ کسی ماہر تقریر نویس کا لکھا ہوا نہیں بلکہ اسے ایک اے آئی چیٹ بوٹ نے تیار کیا ہے، اور اس متن میں چیٹ بوٹ کی اپنی اندرونی ہدایات بھی شامل تھیں۔ سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج کے مطابق، سیاستدان موصوف نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ایوان میں اپنا خطاب جاری رکھا اور بغیر کسی تصدیق یا ایڈیٹنگ کے وہ جملے بھی پڑھ ڈالے جو دراصل اے آئی ماڈل کو دیے گئے پرامپٹس یا انسٹرکشنز کا حصہ تھے۔ اس قسم کی غلطیوں کو عام طور پر جدید ٹیکنالوجی پر اندھا اعتماد کرنے کا شاسانہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں سیاستدان یا ان کے عملے کے ارکان بغیر پڑھے ہی اے آئی کے تیار کردہ مواد کو براہ راست استعمال کر لیتے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی ایک اور واضح مثال ہے کہ کس طرح عوامی حلقوں اور رسمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کا بے احتیاط استعمال بعض اوقات شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں اگرچہ ٹیکنالوجی نے انسانی کاموں کو آسان ضرور کر دیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے تنقیدی شعور کو بالکل معطل کر دے۔ کسی بھی پبلک فورم یا قانون ساز اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے اے آئی کے تیار کردہ مواد کی جانچ پڑتال انتہائی ضروری ہے۔