LIVE
Loading Breaking News...

میڈیا اور نگرانی کا نظام: آزاد پریس کی ساکھ پر سوالیہ نشان

News Image
آزاد پریس کی جانب سے جدید نگرانی کرنے والی ٹیکنالوجی کی حمایت پر شدید عوامی اور سماجی تنقید کا آغاز ہو چکا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ میڈیا ادارے انسانی حقوق اور پرائیویسی کے تحفظ کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔
حال ہی میں آزاد پریس کے کردار پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ 'فلاک سیفٹی' جیسی کمپنیوں کے لائسنس پلیٹ ریڈرز نیٹ ورک کی حمایت ہے۔ کئی میڈیا اداروں نے اس ٹیکنالوجی کی تنصیب کو عوامی تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے، تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام بنیادی آئینی حقوق اور شہریوں کی پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب اہم صحافتی پلیٹ فارمز نے نگرانی کرنے والی صنعت کے خلاف اٹھنے والے خدشات کو مسترد کرنا شروع کیا، جس سے صحافتی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ فلاک سیفٹی کا یہ ٹیکنالوجی نیٹ ورک پورے ملک میں گاڑیوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ صحافتی حلقوں کے ایک حصے کا یہ مؤقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جرائم کی روک تھام میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، لیکن دوسری جانب سول سوسائٹی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ بغیر کسی عدالتی اجازت کے ہر شہری کی نقل و حرکت کا ڈیٹا اکٹھا کرنا ایک 'نگرانی کرنے والی ریاست' کے قیام کی طرف پہلا قدم ہے۔ آزاد پریس کا اس معاملے پر یکطرفہ موقف اپنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح کارپوریٹ مفادات عوامی بیانیے کو متاثر کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل سیکیورٹی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر میڈیا نے نگرانی کے اس جدید نظام کی تنقید کے بجائے حمایت جاری رکھی تو یہ معاشرے میں خوف اور مشکوک رویوں کو فروغ دے گا۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ڈیٹا پرائیویسی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ یہ لوگوں کے آزادی سے گھومنے پھرنے کے حق کو بھی محدود کرتی ہے۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے حقوق کا تحفظ کرے، نہ کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مفادات کی ترجمانی کرے۔ اس معاملے پر بڑھتی ہوئی عوامی ناراضگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہری اب اپنی ڈیجیٹل اور جسمانی پرائیویسی کے بارے میں زیادہ باشعور ہو چکے ہیں۔ آخر میں، یہ صورتحال صحافتی اصولوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ کیا آزاد پریس واقعی عوامی مفاد میں کام کر رہا ہے یا وہ نگرانی کرنے والی انڈسٹری کا ایک آلہ کار بن چکا ہے؟ یہ سوال آنے والے دنوں میں مزید گہرائی اختیار کرے گا۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا میڈیا ادارے اپنے مؤقف پر نظر ثانی کرتے ہیں یا پھر وہ سچائی اور عوام کے بجائے طاقتور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ کھڑے رہنا پسند کریں گے۔