Technology
ایمازون آرٹیفیشل انٹیلیجنس: ٹرینیم 2 چپس کی ناکامی اور مستقبل کے چیلنجز
ایمازون کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں 220 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔ کمپنی کی جانب سے تیار کردہ ٹرینیم 2 چپس صرف 20 ماہ میں ہی متروک ہونے کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں اور انہیں تبدیل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ای کامرس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی دنیا کی دیوہیکل کمپنی ایمازون کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں کیے گئے حالیہ اقدامات مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ کمپنی نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے 220 ارب ڈالر کی خطیر رقم مختص کی تھی، تاہم اب اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ ایمازون کی جانب سے تیار کردہ 'ٹرینیم 2' (Trainium 2) چپس توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جدید چپس صرف 20 ماہ قبل ہی متعارف کرائی گئی تھیں، اور اب کمپنی انہیں تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جس سے کمپنی کی تزویراتی منصوبہ بندی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈی جیسی نے فروری کے مہینے میں سرمایہ کاروں کو بتایا تھا کہ ایمازون 2026 میں اپنے کیپیٹل پروجیکٹس پر تقریباً 200 ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ تاہم، 30 جولائی کو ہونے والی ارننگز کال کے دوران یہ اعداد و شمار بڑھ کر 220 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس غیر معمولی اخراجات کا ایک بڑا حصہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے لیے درکار ہارڈ ویئر اور ڈیٹا سینٹرز پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرینیم 2 چپس کی ناکامی سے کمپنی کے مالی اہداف اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے مقابلے میں اس کی پوزیشن پر گہرا اثر پڑے گا، خاص طور پر جب حریف کمپنیاں جیسے اینوڈیا (NVIDIA) مارکیٹ پر مکمل تسلط جمائے ہوئے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں تیزی سے آتی ہوئی تبدیلیاں ہارڈ ویئر کی عمر کو بہت کم کر رہی ہیں۔ ایمازون کے لیے یہ صورتحال ایک سبق ہے کہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود ٹیکنالوجی کا متروک ہو جانا کمپنی کے لیے بھاری مالی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ ایمازون اپنی کلاؤڈ سروسز یعنی AWS کے ذریعے دنیا بھر میں بہترین خدمات فراہم کر رہا ہے، لیکن چپس کی ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہارڈ ویئر کی تیاری میں مزید تحقیق اور وقت کی ضرورت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایمازون اپنے پروجیکٹس کو دوبارہ ترتیب دیتا ہے یا مستقبل میں مزید چیلنجز کا سامنا کرتا ہے۔