Technology
سان فرانسسکو: اے آئی اشتہارات کا شہریوں کی زندگیوں پر اثرات
سان فرانسسکو میں مصنوعی ذہانت پر مبنی اشتہارات کی کثرت نے مقامی شہریوں کو شدید ذہنی تناؤ اور الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔ لوگ ان اشتہارات کے غیر حقیقی اور عجیب و غریب مواد کی وجہ سے شہر کی فضا تبدیل ہونے کی شکایات کر رہے ہیں۔
سان فرانسسکو کی سڑکوں پر آج کل مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی اشتہارات کی بھرمار ہے، جس نے نہ صرف شہر کا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا ہے بلکہ مقامی شہریوں کی ذہنی کیفیت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ شہر کے مختلف حصوں میں نصب بڑے بڑے بل بورڈز اب انسانی تخلیق کی بجائے اے آئی کے تیار کردہ عجیب و غریب اور غیر حقیقی پیغامات سے بھر چکے ہیں۔ ایک مقامی تجزیے کے مطابق، گزشتہ سال کے وسط سے شہریوں نے ان اشتہارات کو پڑھنا اور ان پر توجہ دینا کم کر دیا ہے کیونکہ یہ مواد لوگوں میں الجھن، غصے اور بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ اے آئی کے یہ اشتہارات حقیقت اور فکشن کے درمیان فرق مٹا رہے ہیں، جس سے دیکھنے والے خود کو ایک مصنوعی دنیا میں محسوس کرتے ہیں۔
اس صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ٹیک کمپنیاں اپنے مصنوعات اور خدمات کی تشہیر کے لیے ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہیں جو انسانی نفسیات کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اشتہارات اکثر ایسے پیغامات دیتے ہیں جو منطقی نہیں ہوتے یا جن کا مقصد صرف صارف کی توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے، چاہے وہ توجہ کتنی ہی کیوں نہ پریشان کن ہو۔ سان فرانسسکو کے رہائشیوں نے شکایت کی ہے کہ ان بل بورڈز کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شہر کی اصل روح ختم ہو رہی ہے اور اس کی جگہ ایک مشینی ماحول نے لے لی ہے۔ ان اشتہارات کی وجہ سے پیدا ہونے والی یہ ذہنی کوفت اب ایک عوامی بحث کا موضوع بن چکی ہے۔
مزید برآں، یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کس تیزی سے ہمارے عوامی مقامات اور روزمرہ کے مشاہدات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی کی ترقی ناگزیر ہے، لیکن سان فرانسسکو کے شہری اب اس سوال پر غور کرنے پر مجبور ہیں کہ کیا مصنوعی ذہانت کو عوامی مقامات پر اس طرح بے لگام استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے؟ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان اشتہارات کا بے دریغ استعمال نہ صرف شہر کی خوبصورتی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ لوگوں کی ذہنی سکون کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ مستقبل میں اس حوالے سے قانون سازی یا ضابطہ اخلاق کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔