Business
بھارتی ریلوے کی جانب سے ناقص خوراک فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی
بھارتی ریلوے نے گزشتہ تین سالوں کے دوران کھانے کے معیار اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کرتے ہوئے 5.13 کروڑ روپے کے بھاری جرمانے عائد کیے ہیں۔ اس کے علاوہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے 6 ٹھیکہ داروں کے معاہدے ختم کر کے انہیں بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔
بھارتی ریلوے نے مسافروں کو فراہم کی جانے والی خوراک کے معیار اور حفظانِ صحت کے سخت معیارات کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران ریلوے انتظامیہ نے قواعد کی سنگین خلاف ورزیوں پر 5.13 کروڑ روپے سے زائد کے بھاری جرمانوں کا نفاذ کیا ہے۔ یہ اقدام مسافروں کی صحت اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے تاکہ سفر کے دوران ملنے والی خوراک کو ہر قسم کے معیار پر پورا اتارا جا سکے۔ حکام کے مطابق، ناقص خوراک کی فراہمی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اس کارروائی کے حصے کے طور پر، ریلوے کی جانب سے سرپرائز انسپیکشن اور باقاعدہ جانچ پڑتال کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ اب تک 6 ایسے ٹھیکیداروں کے معاہدے مکمل طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں جو بارہا وارننگ کے باوجود معیاری خوراک فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ ان ٹھیکیداروں کو نہ صرف کام سے برطرف کیا گیا بلکہ انہیں مستقبل میں ریلوے کے ٹینڈرز میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ یہ اقدام دیگر ٹھیکیداروں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ریلوے کی ساکھ اور مسافروں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اسٹیشنوں اور ٹرینوں میں کچن کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید نگرانی کا نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کچن کی نگرانی اور کھانے کی تیاری کے مراحل کا جائزہ لینا شامل ہے۔ مسافروں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ اگر انہیں کھانے کے معیار کے بارے میں کوئی شکایت ہو تو وہ فوری طور پر ریلوے ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔ یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ بھارتی ریلوے اپنے نظام میں شفافیت لانے اور مسافروں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔
مستقبل میں بھی ریلوے کی جانب سے ایسے سخت اقدامات کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے تاکہ کھانے پینے کی اشیاء کی کوالٹی کو عالمی معیارات کے مطابق برقرار رکھا جا سکے۔ ریلوے انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام لائسنس یافتہ ٹھیکیداروں کو ریلوے کے طے کردہ ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کرنی ہوگی، بصورت دیگر انہیں بھاری جرمانوں اور معاہدوں کی تنسیخ جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔