Business
ایس کے ہائینکس: 38 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور حصص میں گراوٹ
کورین ٹیکنالوجی کمپنی ایس کے ہائینکس نے نئی میموری فیکٹریوں کے قیام کے لیے 38 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد کمپنی کے حصص کی قیمت میں 5 فیصد تک نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں منگل کے روز ایک اہم تبدیلی اس وقت دیکھنے میں آئی جب جنوبی کوریا کی معروف کمپنی ایس کے ہائینکس نے اپنی نئی میموری فیکٹریوں کے قیام کے لیے 38 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کے منصوبے کی منظوری دی۔ اس اعلان کے فوراً بعد کمپنی کے حصص کی قیمت میں 5 فیصد تک کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے اس ردعمل کی بڑی وجہ مستقبل میں ہونے والے بھاری اخراجات اور عالمی منڈی میں میموری چپس کی طلب و رسد میں ممکنہ اتار چڑھاؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
صرف ایس کے ہائینکس ہی نہیں بلکہ دیگر ٹیکنالوجی اور اسٹوریج ڈیوائسز بنانے والی کمپنیوں پر بھی دباؤ دیکھا گیا۔ سی گیٹ (Seagate) کے حصص میں 7 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجہ منافع کی وصولی (Profit-taking) بتائی جا رہی ہے۔ سی گیٹ کے حصص رواں سال کے دوران اب تک 210 فیصد تک اوپر جا چکے تھے، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع محفوظ کرنے کے لیے فروخت کو ترجیح دی۔ اس کے برعکس مائیکرون (Micron) کے حصص میں بہت معمولی کمی دیکھنے میں آئی، جو اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹ کا ایک حصہ اب بھی چپس بنانے والی کمپنیوں کے حوالے سے پرامید ہے۔
ٹیکنالوجی سیکٹر میں جاری اس ہلچل کا اثر سین ڈسک (SanDisk) پر بھی پڑا، جس کے حصص میں 3 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری یہ مندی دراصل سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ طویل المدتی بنیادوں پر میموری فیکٹریوں میں سرمایہ کاری کمپنی کی پیداواری صلاحیت کو بڑھائے گی، لیکن قلیل مدتی طور پر شیئر ہولڈرز اخراجات کے حجم کو لے کر تشویش کا شکار ہیں۔
مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے تو سیمی کنڈکٹر اور میموری چپ سازی کے شعبے میں ہونے والی یہ بڑی سرمایہ کاری ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ تاہم، فی الحال مارکیٹ تجزیہ کار اس پیشرفت کو احتیاط کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ایس کے ہائینکس کا یہ بڑا داؤ آنے والے سہ ماہی نتائج میں کس حد تک کمپنی کے منافع پر اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی مصنوعات کی مانگ میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہے۔