LIVE
Loading Breaking News...

ای ڈبلیو اسکرپس کا اے آئی ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے 12 فیصد ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا فیصلہ

News Image
ای ڈبلیو اسکرپس کے سی ای او ایڈم سمسن نے وال اسٹریٹ تجزیہ کاروں کو کمپنی کی تنظیم نو اور اے آئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار سے آگاہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کمپنی نے اپنے مقامی ٹی وی اسٹیشنوں سے 12 فیصد ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی میڈیا کمپنی ای ڈبلیو اسکرپس (E.W. Scripps) کے سی ای او ایڈم سمسن نے حال ہی میں وال اسٹریٹ کے تجزیہ کاروں کے سامنے ایک اہم بریفنگ دیتے ہوئے کمپنی کی نئی ’ٹرانسفارمیشن پلان‘ یا تبدیلی کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا سب سے نمایاں اور متنازع پہلو کمپنی کی کل افرادی قوت میں 12 فیصد کمی کرنا ہے۔ ان برطرفیوں کا سب سے زیادہ اثر مقامی ٹی وی اسٹیشنوں پر پڑا ہے جو کمپنی کے نیٹ ورک کا بنیادی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ سی ای او کے مطابق یہ اقدامات کمپنی کے مالی استحکام اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر تھے۔ ایڈم سمسن نے اپنے بیان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کو مقامی ٹی وی نیوز انڈسٹری میں ایک ’انقلاب‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی اب اپنی خبروں کی تیاری اور نشریاتی عمل میں اے آئی ٹیکنالوجی کو مرکزی حیثیت دے رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس جدید استعمال سے نہ صرف آپریشنل اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ خبروں کی ترسیل کے معیار اور رفتار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اے آئی کا انضمام کمپنی کی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ وہ بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے میں مسابقتی رہ سکے۔ میڈیا صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکرپس کا یہ فیصلہ مقامی صحافت کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔ جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی کے استعمال سے کام کا بوجھ کم ہونے کی توقع ہے، وہیں دوسری طرف ملازمین کی بڑی تعداد میں برطرفی نے نیوز انڈسٹری میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انسانی وسائل کو اے آئی سے تبدیل کرنے کے نتائج انسانی صحافت کے معیار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم کمپنی انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ تنظیم نو کمپنی کو ڈیجیٹل دور میں مزید فعال اور مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اس پیش رفت کے بعد اب ای ڈبلیو اسکرپس مکمل طور پر اپنی تکنیکی تبدیلیوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ اے آئی پر مبنی حکمت عملی کمپنی کے مالی اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ میڈیا کے تجزیہ کار اس پیش رفت کو ایک ایسے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں روایتی میڈیا ادارے اپنے بقا کے لیے اب بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں، جس کی قیمت انسانی وسائل کی قربانی کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔