LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر انتخابات: تیسرے مرحلے کی انتخابی مہم کا اختتام

News Image
آزاد جموں و کشمیر میں جاری انتخابی عمل کا تیسرا مرحلہ اپنے حتمی لمحات میں داخل ہو چکا ہے جس کے بعد آج رات 12 بجے سے انتخابی مہم پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنی انتخابی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے آخری لمحات تک زور لگایا جا رہا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں جاری انتخابی عمل کا تیسرا مرحلہ انتہائی اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں آج رات بارہ بجے انتخابی مہم کا باضابطہ اختتام ہو جائے گا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے تحت تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت کے بعد کسی بھی قسم کا جلسہ جلوس یا کارنر میٹنگ منعقد کرنے سے گریز کریں۔ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اس انتخابی عمل کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اپنے ایک بیان میں پُرعزم انداز میں کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت قائم کرے گی۔ انہوں نے دو تہائی اکثریت کے حصول کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی حمایت ان کی جماعت کے ساتھ ہے اور وہ خطے میں ترقیاتی کاموں کا نیا آغاز کریں گے۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی اپنی انتخابی مہم میں تیزی لائی گئی ہے اور ووٹرز کو راغب کرنے کے لیے آخری لمحات تک کوششیں جاری ہیں۔ واضح رہے کہ انتخابی عمل کے دوران مختلف مراحل میں کئی چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں جن میں انتخابی شیڈول میں تبدیلی اور مبینہ دھاندلی کے الزامات سرفہرست ہیں۔ مظفرآباد سمیت مختلف حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک ایک نشست پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان تمام خدشات کو دور کرنے کے لیے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کا اعادہ کیا گیا ہے تاکہ عوام اپنا حق رائے دہی آزادانہ طور پر استعمال کر سکیں۔ مجموعی طور پر آزاد کشمیر کا یہ انتخابی ماحول سیاسی جوڑ توڑ اور گرما گرم بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ووٹرز کی بڑی تعداد میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے تمام امیدوار اپنے حلقوں میں ڈور ٹو ڈور مہم کو آخری حد تک فعال کیے ہوئے ہیں۔ انتخابی مہم کے اختتام کے بعد اب تمام تر نظریں پولنگ کے روز پر مرکوز ہوں گی، جہاں عوام اپنا فیصلہ سنائیں گے کہ وہ کس پارٹی کو اپنی تقدیر سنوارنے کا مینڈیٹ دیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے میں انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔