LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی سوڈان: 2018 کا امن معاہدہ خطرے میں، بین الاقوامی برادری کی تشویش

News Image
جنوبی سوڈان میں 2018 کے امن معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں کیونکہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ امن عمل کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
جنوبی سوڈان میں 2018 میں طے پانے والا تاریخی امن معاہدہ اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، جس سے ملک میں دیرپا قیام امن کے خواب کو دھچکا لگنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی برادری کی جانب سے جنوبی سوڈان کی عبوری حکومت کے رویے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ واشنگٹن اور دیگر عالمی طاقتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ جوبا (Juba) انتظامیہ غیر ملکی عطیہ دہندگان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے انتخابات کے حوالے سے غیر مخلصانہ بیانات دے رہی ہے، جس کا مقصد محض وقت کا ضیاع اور اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاسوں میں برطانیہ اور دیگر رکن ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی سوڈان کی عبوری حکومت اقوام متحدہ کے مشن (UNMISS) کے ساتھ مکمل تعاون کرے تاکہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے بھی موجودہ صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انتخابات سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ انہیں سیاسی عمل سے باہر رکھا جا رہا ہے اور حکومت معاہدے کی روح کے مطابق فیصلے نہیں کر رہی ہے۔ یہ داخلی تقسیم ملک کے پہلے سے کمزور ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچا رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے اور انتخابات کے لیے شفاف ماحول فراہم کرنے میں سنجیدگی نہ دکھائی تو 2018 کا معاہدہ مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک بار پھر ملک میں خانہ جنگی یا بدترین سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے۔ پاکستان نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنوبی سوڈان کی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ امن عمل کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کرے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان میں استحکام پورے خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے اور تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات حل کریں۔ اقوام متحدہ کے مشن کے لیے تعاون کی فراہمی اور انتخابی عمل میں شفافیت ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے جنوبی سوڈان کے عوام کو ایک پرامن اور مستحکم مستقبل فراہم کیا جا سکتا ہے۔ عالمی دباؤ کے باوجود، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ جوبا انتظامیہ کو اپنے وعدوں کی پاسداری کے لیے فوری اور ٹھوس عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ بین الاقوامی برادری کا اعتماد بحال ہو سکے۔