LIVE
Loading Breaking News...

سپر بگس کا انسانوں اور جانوروں میں پھیلاؤ، سائنسدانوں کا انتباہ

News Image
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ خطرناک اور ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے جراثیم انسانوں اور پالتو جانوروں کے درمیان تیزی سے منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے طبی ماہرین نے جانوروں کے ساتھ قریبی رابطے میں احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
ماہرینِ صحت اور سائنسدانوں نے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ ادویات کو شکست دینے والے خطرناک 'سُپر بگس' نہ صرف انسانوں بلکہ پالتو جانوروں کے درمیان بھی تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے کیونکہ عام اینٹی بائیوٹکس اب ان موذی جراثیم پر اثرانداز نہیں ہوتیں۔ حالیہ سائنسی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ جانوروں میں پائے جانے والے جراثیم انسانوں میں منتقل ہو کر سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ چینی لیبارٹریز میں ہونے والے ایک حالیہ تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ جانوروں کے ٹشوز میں ایسے خطرناک بیکٹیریا موجود ہیں جو کسی بھی روایتی علاج کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس دریافت کے بعد سے طبی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ جانوروں اور انسانوں کا روزمرہ کا قریبی رابطہ اس انفیکشن کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر سکتا ہے۔ گھروں میں پلے جانے والے جانور جیسے کہ بلیاں، کتے اور دیگر پرندے اس قسم کے جراثیم کے کیریئر بن سکتے ہیں، جس سے بالواسطہ طور پر انسانوں بالخصوص بچوں اور ضعیف افراد کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال اس بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ جانوروں اور انسانوں دونوں میں ادویات کے غیر ضروری استعمال سے یہ جراثیم اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ اب وہ کسی بھی عام دوا سے ختم نہیں ہوتے۔ طبی ماہرین نے حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور جانوروں کی دیکھ بھال کے دوران حفظان صحت کے اصولوں کو مزید سخت کریں۔ عوام کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پالتو جانوروں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور کسی بھی قسم کی بیماری کی صورت میں فوری طور پر مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ اس خطرناک منتقلی کے عمل کو روکا جا سکے۔