LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں آج سونے کا تازہ ترین ریٹ - 8 اگست 2026

News Image
پاکستان میں آج سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد فی تولہ قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں رجحانات کے زیر اثر مقامی سطح پر بھی قیمتیں بلند ہو رہی ہیں۔
پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں آج 8 اگست 2026 کو سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی ہے۔ مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سونے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے زیورات اور سرمایہ کاری کے لیے سونا خریدنے والے افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آج کے کاروباری دن کے آغاز پر سونے کی فی تولہ قیمت میں 2200 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مارکیٹ میں سونے کے خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان ہلچل مچی ہوئی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی منڈی میں جاری اتار چڑھاؤ کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ عالمی سطح پر سونے کی بڑھتی ہوئی مانگ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ہونے والی تبدیلیوں نے مقامی مارکیٹ کے رجحانات کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں سے سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور کچھ روز پہلے بھی سونے کی قیمتوں میں 5100 روپے تک کا غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتیں مستحکم نہیں ہیں۔ صرافہ مارکیٹ کے نمائندگان کے مطابق قیمتوں میں یہ حالیہ تیزی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا پیغام دے رہی ہے۔ سونے کو روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، اسی لیے قیمتوں میں اضافے کے باوجود مارکیٹ میں اس کی طلب برقرار ہے۔ تاہم، عام صارفین کے لیے سونے کے زیورات کی خریداری مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں سونے کی قیمتوں کا انحصار عالمی منڈی کے حالات اور ملکی اقتصادی صورتحال پر ہوگا، جس پر تجزیہ کاروں کی گہری نظریں ہیں۔ ملک بھر میں صرافہ ایسوسی ایشنز باقاعدگی سے ان نرخوں کا اعلان کرتی ہیں تاکہ صارفین کو منڈی کے تازہ ترین حالات سے آگاہ رکھا جا سکے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ خریداری سے قبل مقامی صرافہ بازار کے درست نرخوں کی تصدیق کر لیں کیونکہ مختلف شہروں میں ٹیکسوں اور دیگر چارجز کی وجہ سے قیمتوں میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے بھی معاشی استحکام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عام آدمی پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔