LIVE
Loading Breaking News...

خود کار مرمت والا لباس: چینی سائنسدانوں نے فنگس سے حیران کن ایجاد کر لی

News Image
چینی سائنسدانوں نے ایک ایسا انقلابی لباس تخلیق کیا ہے جو زندہ فنگس سے بنا ہے اور اپنے زخموں یا کٹاؤ کو خود ہی بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی فیشن انڈسٹری میں پائیداری اور ماحول دوست لباس سازی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔
چین میں سائنسدانوں نے بائیو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک ایسی حیران کن کامیابی حاصل کی ہے جو مستقبل میں فیشن اور ملبوسات کی صنعت کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ محققین نے ایک ایسا لباس تیار کیا ہے جو کسی عام کپڑے کے بجائے 'زندہ فنگس' (Mycelium) سے بنایا گیا ہے۔ اس لباس کی سب سے بڑی اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ خود کو مرمت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر اس لباس میں کہیں سے کٹ لگ جائے یا وہ پھٹ جائے، تو اس میں موجود زندہ خلیات اسے دوبارہ جوڑ کر ٹھیک کر دیتے ہیں، جس سے لباس کی پائیداری میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ اس ایجاد کے پیچھے بنیادی سائنس فنگس کے نیٹ ورک یعنی مائیسیلیم پر مبنی ہے۔ مائیسیلیم فنگس کی جڑ نما شاخیں ہوتی ہیں جو قدرتی طور پر بہت مضبوط اور لچکدار ہوتی ہیں۔ سائنسدانوں نے ان خلیات کو لیبارٹری میں کنٹرول شدہ ماحول میں پروان چڑھایا اور انہیں کپڑے کی شکل دی۔ یہ مٹیریل نہ صرف انسانی جسم کے لیے آرام دہ ہے بلکہ مکمل طور پر بائیو ڈیگریڈیبل (قدرتی طور پر تحلیل ہونے والا) بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب یہ لباس اپنی عمر پوری کر لے گا، تو یہ ماحول کو آلودہ کرنے کے بجائے زمین میں مل کر کھاد بن جائے گا، جو اسے موجودہ فیشن کے برعکس ایک ماحول دوست متبادل بناتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف ایک لباس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مستقبل میں اسے جوتوں، پرس، اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء میں بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ اس تحقیق کے ذریعے فیشن انڈسٹری پر اٹھنے والے ماحولیاتی تنقید کے سوالات کا جواب مل رہا ہے، کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری دنیا میں آلودگی پھیلانے والے بڑے عوامل میں سے ایک ہے۔ زندہ مٹیریلز کا استعمال فیشن میں پائیداری کو ایک نئی بلندی پر لے جائے گا جہاں کپڑے خریدنے کے بعد انہیں پھینکنے کے بجائے طویل عرصے تک استعمال کیا جا سکے گا کیونکہ وہ خود کو مرمت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ابھی یہ ٹیکنالوجی اپنی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن عالمی سائنسی حلقوں میں اس کی پذیرائی ہو رہی ہے۔ تحقیق کار اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیسے اس عمل کو بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار کے لیے ڈھالا جا سکے تاکہ عام صارفین تک یہ جدید 'زندہ لباس' پہنچ سکے۔ اگر یہ تجربہ بڑے پیمانے پر کامیاب ہوتا ہے، تو ہم جلد ہی ایسے ملبوسات مارکیٹ میں دیکھ سکیں گے جو نہ صرف سمارٹ ہیں بلکہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہیں۔