Business
کیپیٹا انتظامیہ کے خلاف ملازمین کی برہمی اور اندرونی تناؤ
کیپیٹا کے سی ای او نے سول سروس پنشن اسکیم کے انتظامی معاملات کو درست قرار دیا تو ایک ملازم نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ ملازم کا کہنا ہے کہ کمپنی کے اندر معاملات کو درست کرنے کے لیے ضروری اقدامات کا فقدان ہے۔
برطانیہ کی معروف آؤٹ سورسنگ کمپنی کیپیٹا (Capita) کے سی ای او کو اس وقت ایک شرمناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے اپنے ہی ایک ملازم نے کمپنی کی انتظامی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے۔ یہ تنازعہ سول سروس پنشن اسکیم (CSPS) کے انتظامی معاملات کے حوالے سے شروع ہوا، جس کی کارکردگی پر طویل عرصے سے سوالیہ نشانات موجود ہیں۔ سی ای او کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کمپنی نے پنشن اسکیم کے امور کو بہتر بنانے کے لیے تمام ضروری اور درست اقدامات اٹھا لیے ہیں، تاہم ایک ملازم نے اس بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے حقیقت کے منافی قرار دیا ہے۔
اس ملازم نے کمپنی کے اندرونی ماحول اور مینجمنٹ کے فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیپیٹا کے اعلیٰ حکام کا یہ دعویٰ کہ معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں، زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔ ملازم کے مطابق، جس طرح سے پنشن اسکیم کو سنبھالا جا رہا ہے، اس سے نہ صرف کام کا معیار متاثر ہو رہا ہے بلکہ عملے کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ملازم نے اپنے ردعمل میں واضح کیا کہ کمپنی کے پاس اصلاحات کے لیے وہ ضروری ڈھانچہ یا وسائل فی الحال موجود نہیں ہیں جن کی سی ای او نے اپنے بیان میں بات کی ہے۔
یہ واقعہ کیپیٹا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے کیونکہ سول سروس پنشن اسکیم کا معاملہ سرکاری اور عوامی سطح پر بھی زیر بحث رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کمپنی کے اپنے ملازمین ہی انتظامیہ پر اعتماد نہیں کر رہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اندرونی طور پر نظم و ضبط اور ورک کلچر میں بڑی خرابی موجود ہے۔ سی ای او کے اس دعوے کے بعد اب کمپنی کے اندر مزید بے چینی پائی جا رہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اعلیٰ انتظامیہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے شفافیت کا مظاہرہ کرے گی۔
فی الحال، کیپیٹا کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا ہے، لیکن اس کھلی تنقید نے کارپوریٹ دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا بڑی کمپنیاں اپنے ملازمین کی آراء کو اہمیت دینے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ پنشن اسکیم سے وابستہ ہزاروں افراد کے مفادات کا تعلق اس کمپنی کی کارکردگی سے ہے، لہذا ملازم کی یہ تنقید کمپنی کی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔