Business
بے روزگاری میں کمی کی حقیقت اور نوکری کے متلاشی افراد کے لیے چیلنجز
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ طویل مدتی بے روزگاری کے اعداد و شمار میں بظاہر بہتری حقیقت میں تشویشناک ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے مایوس افراد ملازمت کی تلاش سے دستبردار ہو رہے ہیں جس سے لیبر مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
حال ہی میں جاری ہونے والے لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق طویل مدتی بے روزگاری کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو بظاہر ایک مثبت معاشی اشارہ محسوس ہوتا ہے۔ تاہم، ماہرین معاشیات نے ان اعداد و شمار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سطح پر نظر آنے والی یہ بہتری دراصل لیبر مارکیٹ کی گہری خرابیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے روزگاری میں کمی کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ لوگوں کو ملازمتیں مل گئی ہیں، بلکہ اکثر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ طویل عرصے سے نوکری کے متلاشی افراد اب ہمت ہار کر لیبر فورس سے ہی باہر ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جب کوئی شخص ایک طویل عرصے تک نوکری تلاش کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو وہ آہستہ آہستہ جاب سرچ کے عمل سے دستبردار ہونے لگتا ہے۔ جب یہ افراد لیبر مارکیٹ سے نکل جاتے ہیں، تو سرکاری اعداد و شمار میں انہیں 'بے روزگار' شمار نہیں کیا جاتا، جس کے نتیجے میں بے روزگاری کی شرح میں مصنوعی کمی دکھائی دیتی ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر ان لوگوں کے لیے تشویشناک ہے جو دوبارہ روزگار حاصل کرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن مارکیٹ میں مناسب مواقع نہ ملنے کی وجہ سے مایوس ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ یہ صورتحال معیشت کی سست روی اور مہارتوں کے فرق (Skill Gap) کو اجاگر کرتی ہے۔
ملازمت کے متلاشی افراد کے لیے یہ ڈیٹا ایک اہم سبق رکھتا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں صرف نوکری کے حصول پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ہنر کو بہتر بنانے اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ لیبر مارکیٹ کا بدلتا ہوا مزاج یہ بتاتا ہے کہ صرف طویل عرصے تک تلاش جاری رکھنا کافی نہیں، بلکہ اپنی اہلیت میں اضافہ کرنا اور نیٹ ورکنگ پر توجہ دینا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومت اور نجی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے پروگرام شروع کریں جو طویل مدتی بے روزگاروں کو دوبارہ کارآمد بنانے میں مدد فراہم کر سکیں۔
آخر میں، معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پالیسی سازوں کو بے روزگاری کے صرف فیصد پر توجہ دینے کے بجائے 'لیبر فورس پارٹیسیپیشن ریٹ' پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ اگر معیشت میں نئی ملازمتیں پیدا نہیں ہو رہیں اور لوگ کام چھوڑ رہے ہیں، تو یہ آنے والے وقت میں ملک کی مجموعی پیداواری صلاحیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ملازمت کے متلاشی افراد کو بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہمت نہ ہاریں اور بدلتی ہوئی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائیں تاکہ وہ اس مشکل دور سے نکل کر بہتر مواقع پا سکیں۔