LIVE
Loading Breaking News...

ای پی ایف او غیر فعال اکائؤنٹس خودکار ریفنڈ

News Image
ملازمت اور روزگار کی وزارت نے ان ایک لاکھ اٹھارہ ہزار غیر فعال اکائؤنٹس کی نشاندہی کر لی ہے جن میں ایک ہزار روپے سے کم بیلنس موجود ہے۔ ان کھاتہ داروں کو رقوم کی خودکار واپسی کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا۔
نئی دہلی: وزارتِ محنت اور روزگار کے تحت کام کرنے والے ادارے ایمپلائیز پراویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) نے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ایسے غیر فعال اور لاوارث پراویڈنٹ فنڈ اکاؤنٹس کی نشاندہی کا عمل تیز کر دیا ہے جن میں بیلنس ایک ہزار روپے سے کم ہے۔ ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر سات لاکھ گیارہ ہزار ایسے غیر فعال اکائؤنٹس موجود ہیں جن کی رقم طویل عرصے سے نکالی نہیں گئی تھی۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے ایک لاکھ اٹھارہ ہزار کھاتہ داروں کا سراغ لگا لیا گیا ہے تاکہ ان کے بقایا جات براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے جا سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی چھوٹی یا بڑی رقم سرکاری اداروں میں پھنسی نہ رہے بلکہ اس کے اصل حقدار تک پہنچائی جا سکے۔ اس خودکار ریفنڈ کے نظام سے نہ صرف محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ ہوگا بلکہ اداروں میں سالوں سے پڑی غیر فعال رقوم کا بوجھ بھی کم ہوگا۔ ای پی ایف او کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اس پورے عمل کو ڈیجیٹل اور شفاف بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا تاخیر کی گنجائش نہ رہے۔ جن کھاتہ داروں کے ریکارڈ کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے ان کے بینک کھاتوں کی تفصیلات کی جانچ پڑتال کے بعد رقوم کی منتقلی کا عمل مرحلہ وار جاری ہے۔ دوسری جانب ماہرینِ معاشیات نے اس قدم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عام لوگوں کا مالیاتی نظام پر اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔ وزارت کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بقیہ کھاتہ داروں کے کوائف کی تلاش کا کام بھی تیزی سے جاری ہے اور آنے والے مہینوں میں مزید افراد کو ان کے واجبات واپس کر دیے جائیں گے۔ اس تاریخی اقدام سے لاکھوں ایسے غریب اور متوسط طبقے کے ملازمین کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جو یا تو نوکری چھوڑ چکے ہیں یا جنہیں اپنے پرانے پی ایف اکاؤنٹس کا علم نہیں تھا۔