LIVE
Loading Breaking News...

اوبر کی اے آئی اخراجات میں کمی، مستقبل کی حکمت عملی کا اعلان

News Image
اوبر نے سال 2026 کے لیے مختص مصنوعی ذہانت کا بجٹ محض چند ماہ میں ہی خرچ کر دیا ہے۔ کمپنی اب اے آئی اخراجات پر قابو پانے کے لیے ٹیکنالوجی کے محتاط استعمال کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔
عالمی ٹیک کمپنی اوبر نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں سرمایہ کاری کے دوران کمپنی کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق اوبر نے سن 2026 کے لیے مصنوعی ذہانت کا جو بجٹ مختص کیا تھا، وہ رواں سال کے ابتدائی چند ماہ میں ہی مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ اوبر کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر (CTO) نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی اب اس نام نہاد 'ٹکن میکسنگ' (Tokenmaxxing) کے دور کے خاتمے کے قریب ہے، جہاں بلا سوچے سمجھے اے آئی ماڈلز پر بے تحاشا اخراجات کیے جا رہے تھے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دینے اور انہیں چلانے کے لیے درکار ٹوکنز کی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس نے کمپنی کے مالیاتی اہداف کو متاثر کیا ہے۔ اوبر کا ماننا ہے کہ انہوں نے اپنے اے آئی اخراجات کے بحران کا حل تلاش کر لیا ہے اور اب وہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں زیادہ محتاط رویہ اختیار کریں گے۔ سی ٹی او کا کہنا ہے کہ صرف ٹوکنز کی تعداد بڑھانا ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے، بلکہ اب توجہ کارکردگی اور لاگت میں کمی پر مرکوز ہونی چاہیے۔ آنے والے وقتوں میں اوبر اپنی اے آئی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں لانے جا رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق، وہ اب بڑے اور مہنگے ماڈلز کے بجائے چھوٹے اور زیادہ مؤثر ماڈلز پر توجہ مرکوز کرے گی تاکہ کمپیوٹیشنل اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اوبر اپنے پلیٹ فارم پر موجود مختلف خدمات کو بہتر بنانے کے لیے اے آئی کا استعمال مزید چیدہ چیدہ اور ہدف کے مطابق کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف کمپنی کے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنائے گا بلکہ طویل مدت میں ٹیکنالوجی کے پائیدار استعمال کو بھی یقینی بنائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اوبر کا یہ فیصلہ دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی ایک سبق کی حیثیت رکھتا ہے جو اے آئی کی دوڑ میں اندھا دھند سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اوبر نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کا مستقبل ضرور ہے، لیکن اس کا استعمال عقلمندی اور مالیاتی ذمہ داری کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ کمپنی کی جانب سے اس نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے کوارٹرز میں اے آئی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور کمپنی اپنے منافع کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔