Business
یو پی آئی ایم ڈی آر پالیسی میں تبدیلی: چھوٹے تاجروں کے لیے خطرات
بھارت میں یو پی آئی ٹرانزیکشنز پر زیرو مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) کے خاتمے کی بازگشت نے معاشی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے چھوٹے تاجروں پر بوجھ بڑھے گا اور مالی شمولیت کا عمل سست ہو سکتا ہے۔
بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں یو پی آئی (UPI) کی کامیابی ایک عالمی مثال بن چکی ہے، جس نے عام آدمی کی زندگی میں مالیاتی لین دین کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ تاہم، حالیہ 'پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز امینڈمنٹ بل' کے بعد زیرو مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) کے خاتمے کے حوالے سے بحث نے زور پکڑ لیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یو پی آئی ٹرانزیکشنز پر چارجز لاگو کیے گئے تو یہ بھارت کی ایک انتہائی کامیاب عوامی پالیسی کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔ بینکوں اور فن ٹیک کمپنیوں کی جانب سے ان چارجز کی حمایت کی جا رہی ہے تاکہ ان کے منافع اور انفراسٹرکچر کے اخراجات کو پورا کیا جا سکے، لیکن اس کا دوسرا رخ انتہائی تشویشناک ہے۔
زیرو ایم ڈی آر کی پالیسی نے ہی چھوٹے دکانداروں اور ریڑھی بانوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب راغب کیا تھا۔ اگر لین دین پر فیس عائد ہوتی ہے، تو چھوٹے تاجر اس ٹیکنالوجی سے کنارہ کشی اختیار کر سکتے ہیں، جس سے ڈیجیٹلائزیشن کا عمل سست پڑ جائے گا۔ اس کے علاوہ، یہ بوجھ بالآخر صارفین تک منتقل ہو سکتا ہے، جس سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مقبولیت میں کمی آئے گی۔ بھارت کی ڈیجیٹل کامیابی کا راز یہی تھا کہ یہ ایک مفت اور قابل رسائی نظام تھا، جس نے کروڑوں لوگوں کو بینکنگ سسٹم سے جوڑا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مالی شمولیت کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا مفت رہنا ناگزیر ہے۔ اگرچہ بینکوں کا موقف ہے کہ انہیں اپنی سروسز کو برقرار رکھنے کے لیے آمدنی کے ذرائع درکار ہیں، لیکن حکومت کو اس معاملے میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا نظام جو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہو، اس میں کوئی بھی تبدیلی جلد بازی میں نہیں ہونی چاہیے۔ یو پی آئی کی سستی اور سہولت ہی وہ بنیادی عنصر ہے جس نے نقد رقم (کیش) کے کلچر کو کمزور کیا ہے۔
نتیجتاً، اگر حکومت ایم ڈی آر متعارف کراتی ہے، تو اسے چھوٹے تاجروں کے لیے مراعات یا متبادل حل تلاش کرنے ہوں گے۔ بصورت دیگر، ڈیجیٹل انڈیا کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ مستقبل میں مالیاتی استحکام اور عوامی سہولت کے درمیان توازن برقرار رکھنا پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔