LIVE
Loading Breaking News...

چھتیس گڑھ میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کو فروغ، راجنندگاؤں میں نیا کلسٹر بنے گا

News Image
مرکزی وزارت برائے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے چھتیس گڑھ کے شہر راجنندگاؤں میں ایک نئے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹر کے قیام کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے سے خطے میں تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے کی بھاری سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے چھتیس گڑھ کے شہر راجنندگاؤں میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹر کے قیام کی منظوری کو ریاست کی صنعتی ترقی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مرکزی وزارت برائے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) کی جانب سے اس منصوبے کو ہری جھنڈی ملنے کے بعد اب امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ خطہ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کا ایک نیا مرکز بن کر ابھرے گا۔ ریاستی حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب ایک قدم ہے بلکہ یہ مقامی سطح پر صنعتی ماحول کو بھی بہتر بنائے گا۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس سے نہ صرف بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب بھی ممکن ہو سکے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اس کلسٹر کے قیام سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور ریاست میں بیرونی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس منصوبے کا مقصد الیکٹرانک پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینا ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔ چھتیس گڑھ حکومت اب اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو تمام ضروری سہولیات ایک ہی جگہ فراہم کی جا سکیں۔ اس کلسٹر سے جڑی منسلک صنعتوں کے قیام سے بھی معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ راجنندگاؤں کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ یہاں لاجسٹک اور دیگر سہولیات کی فراہمی آسان ہے، جو کسی بھی مینوفیکچرنگ یونٹ کی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس کلسٹر کے لیے زمین کی الاٹمنٹ اور دیگر انتظامی معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف چھتیس گڑھ کی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ اسے قومی سطح پر بھی ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کے ایک اہم مقام کے طور پر شناخت ملے گی۔ ریاستی حکومت اس منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ منصوبے کی تکمیل مقررہ وقت کے اندر ممکن ہو سکے۔