Health
والدین کا تناؤ اور بچوں کا اسکرین ٹائم: ایک تشویشناک تعلق
ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ والدین کا ذہنی تناؤ براہ راست بچوں کی ڈیجیٹل عادات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ کے شکار والدین اکثر بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے اسکرین کا سہارا لیتے ہیں۔
ایک نئی سائنسی تحقیق نے والدین کی ذہنی صحت اور بچوں کی ڈیجیٹل عادات کے درمیان گہرا تعلق ظاہر کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق، وہ والدین جو اپنی زندگی میں زیادہ ذہنی دباؤ یا پریشانی کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں، ان کے بچے معمول سے زیادہ وقت اسکرین یعنی موبائل، ٹیلی ویژن یا کمپیوٹر پر گزارتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان بچوں کی مجموعی ذہنی اور جسمانی نشوونما کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، کیونکہ اسکرین کا ضرورت سے زیادہ استعمال نہ صرف بچوں کی جسمانی سرگرمیوں کو محدود کرتا ہے بلکہ ان کی نیند اور سماجی میل جول پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
ماہرین نفسیات کا ماننا ہے کہ ذہنی دباؤ کے شکار والدین اکثر تھکن یا وقت کی کمی کے باعث بچوں کو 'پرسکون' رکھنے کے لیے ڈیجیٹل آلات کا سہارا لیتے ہیں۔ اس طرح اسکرین ایک وقتی حل بن کر سامنے آتی ہے، جس سے والدین کو کچھ وقت مل جاتا ہے، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر یہ بچوں میں اسکرین کی لت پیدا کر دیتی ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جب والدین خود اپنی پریشانیوں میں گھرے ہوتے ہیں تو وہ بچوں کے ساتھ براہ راست گفتگو یا کھیلنے کودنے کے لیے توانائی کم محسوس کرتے ہیں، جس کا خلا اسکرین ٹائم سے پُر کیا جاتا ہے۔
تحقیقی ٹیم نے مشورہ دیا ہے کہ والدین کو اپنی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں، تاکہ وہ بچوں کی دیکھ بھال میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ اگر والدین ذہنی دباؤ کا شکار ہوں تو انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ بچوں کے ساتھ کوالٹی ٹائم گزارنے کے متبادل طریقے تلاش کریں، جیسے کہ پارک میں چہل قدمی یا کوئی سادہ تعلیمی سرگرمی، جس میں اسکرین کا عمل دخل نہ ہو۔ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے باہر نکال کر حقیقی دنیا کے تجربات فراہم کرنا ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
آخر میں، والدین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسکرین کے بے جا استعمال سے بچوں کے دماغی افعال پر گہرا اثر پڑتا ہے، جس سے ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس مسئلے کا حل نہ صرف بچوں پر سختی کرنا ہے بلکہ والدین کو اپنی جذباتی کیفیت کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ وہ بچوں کو ایک صحت مند ماحول فراہم کر سکیں۔ اس سلسلے میں معاشرتی آگاہی اور گھریلو ماحول میں مثبت تبدیلیاں لانا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہماری اگلی نسل اسکرین کی غلامی سے بچ سکے۔