Pakistan
میر رضا علی قتل کیس: دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ جاری
کراچی میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔ قانونی ٹیم اور لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ وحشیانہ تشدد کے بعد کیا گیا قتل ہے۔
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پراسرار حالات میں جاں بحق ہونے والے 25 سالہ نوجوان کاروباری شخصیت اور ریستوران کے مالک میر رضا علی کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹس سامنے آ گئی ہیں جن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متوفی کے جسم پر تشدد کے شدید اور متعدد نشانات پائے گئے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے بحال کیے گئے اصل میڈیکل بورڈ کے تحت جب لاش کی دوسری بار قبر کشائی کر کے معائنہ کیا گیا تو رضا کے سر، چہرے اور دیگر اعضا پر گہرے زخم پائے گئے۔ ڈاکٹر سمیہ کا کہنا تھا کہ رضا کی ناک کی ہڈی اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی جبکہ دائیں پسلی اور پاؤں پر بھی چوٹوں کے نشانات موجود تھے۔ اس کے علاوہ ان کے منہ اور گلے میں ایک جما ہوا سیاہ مادہ بھی پایا گیا ہے جس کے نمونے ڈی این اے، کیمیائی تجزیے اور گن شاٹ ریزیڈیو ٹیسٹنگ کے لیے لیبارٹری کو بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حتمی موت کی وجہ لیبارٹری رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔ دوسری جانب مقتول کے خاندان کے قانونی نمائندے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ خودکشی کا نہیں بلکہ شدید تشدد کے بعد قتل کا واضح معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے خاندان کے ان خدشات کو درست ثابت کر دیا ہے جن میں وہ شروع دن سے یہ کہہ رہے تھے کہ رضا کو قتل کیا گیا ہے۔ جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ رضا کی ٹھوڑی پر زخم، آنکھ کے گڑھے دبے ہوئے اور ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے قتل کرنے سے قبل بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گلے کے اندرونی پٹھوں کی حالت اور ہائیائیڈ بون ٹوٹنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسے گلا گھونٹ کر مارنے کی کوشش بھی کی گئی۔ وکیل نے مزید بتایا کہ گولی لگنے کے واقعے کے حوالے سے بھی حقائق واضح ہو چکے ہیں اور بظاہر گولی پیچھے سے لگ کر پسلیوں کو توڑتی ہوئی باہر نکلی تھی۔ مقتول کے والد میر حسین نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے لیکن پولیس کے اعلیٰ حکام مسلسل اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے تفتیش کرنے کے بجائے خاندان کو ہراساں کیا اور وہ اس تحقیقاتی ٹیم پر بالکل اعتماد نہیں رکھتے۔ خاندان اور ان کے وکیل نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدار تحقیقات کروائی جائیں اور موجودہ تفتیشی ٹیم کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے تاکہ لواحقین کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور اصل مجرم قانون کے کٹہرے میں آ سکیں۔