Technology
ڈزنی کا نیا انٹرایکٹو ایوک کھلونا اور اس کی ٹیکنالوجی
والٹ ڈزنی ورلڈ نے اپنی دو دہائی پرانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک نیا انٹرایکٹو کھلونہ ایوک متعارف کرایا ہے۔ یہ جدید آلہ پارک میں آنے والے مہمانوں کو ایک دلچسپ اور ٹیکنالوجی سے بھرپور تجربہ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
والٹ ڈزنی ورلڈ کے پرانے شائقین کو یقیناً 2003 میں متعارف کرایا جانے والا 'پال مکی' یاد ہوگا، جو ایک ایسا انٹرایکٹو پلس کھلونا تھا جس نے پارک کی سیر کے دوران سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا تھا۔ اب دو دہائیوں کے طویل وقفے کے بعد، ڈزنی نے ایک بار پھر ٹیکنالوجی اور تفریح کے امتزاج سے ایک نیا قدم اٹھایا ہے اور 'ایوک' (Ewok) کی شکل میں ایک نیا انٹرایکٹو ساتھی متعارف کرایا ہے۔ یہ نیا کھلونا نہ صرف دیکھنے میں دلکش ہے بلکہ جدید سینسرز اور انٹرایکٹو صلاحیتوں سے لیس ہے جو پارک کے ماحول کے مطابق ردعمل ظاہر کرتا ہے۔
'پال مکی' اپنے وقت میں ایک انقلابی ایجاد سمجھی جاتی تھی، جس نے مہمانوں کو یہ سہولت دی تھی کہ وہ پارک کے مختلف حصوں میں جانے پر اپنے کھلونے سے صوتی ہدایات اور معلومات حاصل کر سکیں۔ اسی ٹیکنالوجی کو مزید جدید اور بہتر بناتے ہوئے 'ایوک' کو تیار کیا گیا ہے۔ ایوک، جو کہ مشہور 'سٹار وارز' سیریز کا ایک مقبول کردار ہے، اب پارک میں آنے والے سیاحوں کے لیے ایک گائیڈ اور ساتھی کے طور پر کام کرے گا۔ یہ کھلونا پارک کے مختلف پوائنٹس پر موجود سگنلز کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے پارک کا دورہ مزید یادگار بن جاتا ہے۔
ڈزنی کی جانب سے اس نئے پروجیکٹ کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے مہمانوں کے تجربے کو ڈیجیٹل اور حقیقی دنیا کے ملاپ سے بہتر بنانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ کمپنی اپنے ماضی کے کامیاب تجربات سے سیکھ کر مستقبل کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے تیار ہے۔ جہاں 'پال مکی' نے انٹرایکٹو کھلونوں کی ایک نئی لہر پیدا کی تھی، وہیں 'ایوک' کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ یہ جدید سمارٹ ٹیکنالوجی کی بدولت پارک کے اندر ایک نیا رحجان قائم کرے گا۔
اس نئے انٹرایکٹو ساتھی کی آمد کے بعد سے شائقین میں کافی جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ ڈزنی کی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایوک کے ذریعے وہ اپنے مہمانوں کے ساتھ ایک گہرا جذباتی تعلق قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ یہ اقدام نہ صرف تفریحی صنعت میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ ڈزنی اپنے کلاسک کرداروں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں ماہر ہے۔