Technology
UNC6671 سائبر حملہ آوروں کا نیا وائس فشنگ نیٹ ورک بے نقاب
UNC6671 نامی ہیکر گروپ نے فنانشل اور کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین کو نشانہ بنانے کے لیے وائس فشنگ کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ حملہ آور فون کالز کے ذریعے نجی معلومات حاصل کرکے کلاؤڈ اور سافٹ ویئر ڈیٹا کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں سرگرم ماہرین نے ایک انتہائی خطرناک ہیکر گروپ UNC6671 کی سرگرمیوں کے بارے میں تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ یہ گروپ خاص طور پر مالیاتی خدمات، پرائیویٹ ایکویٹی اور پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اپنی کارروائیوں کے لیے یہ گروپ وائس فشنگ (Vishing) کا سہارا لیتا ہے، جس میں حملہ آور خود کو کمپنی کا نمائندہ ظاہر کر کے ملازمین سے ان کے سیکیورٹی کریڈینشلز یا حساس ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس حملے کا بنیادی ہدف کلاؤڈ بیسڈ سافٹ ویئر یعنی SaaS (Software as a Service) پلیٹ فارمز پر موجود ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ حملہ آور اس قدر مہارت سے بات کرتے ہیں کہ متاثرین کو شک تک نہیں ہوتا کہ وہ کسی دھوکے کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب ایک بار ملازم کا اکاؤنٹ یا لاگ ان معلومات ان کے ہاتھ لگ جاتی ہیں، تو یہ ہیکرز پوری تنظیم کے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، جس سے کمپنی کی ساکھ اور ڈیٹا کی رازداری دونوں کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ UNC6671 گروپ کے طریقہ کار میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جدت آ رہی ہے۔ وہ عام طور پر ایسے فون کالز کا انتخاب کرتے ہیں جو کاروباری اوقات کے دوران کی جاتی ہیں تاکہ متاثرہ فرد کام کے دباؤ میں رہ کر جلد بازی میں غلط فیصلے کر سکے۔ یہ گروپ صرف معلومات ہی نہیں چرا رہا بلکہ ڈیٹا کو ہیک کر کے تاوان (Ransom) کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے، جو کہ کاروباری اداروں کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بن چکا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی تربیت میں اضافہ کریں اور ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن (MFA) جیسے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ کسی بھی نامعلوم نمبر سے آنے والی کال پر حساس معلومات فراہم کرنا نہ صرف ذاتی بلکہ ادارے کی سیکیورٹی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ مشکوک کالز کی فوری رپورٹ متعلقہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو دی جانی چاہیے تاکہ بروقت کارروائی کرتے ہوئے کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔