Technology
وال سٹریٹ پر سائبر حملے کا نیا طریقہ کار: فون کال کے ذریعے سکیورٹی کو خطرہ
وال سٹریٹ کے مالیاتی اداروں کو اب ایک نئے اور خطرناک سائبر حملے کا سامنا ہے جہاں ہیکرز نیٹ ورک کی دیواریں توڑنے کے بجائے براہِ راست ملازمین کے اکاؤنٹس میں لاگ ان کر رہے ہیں۔ گوگل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق حملہ آور کلاؤڈ بیسڈ پلیٹ فارمز اور سافٹ ویئر ایکو سسٹمز کو اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
دنیا بھر کے مالیاتی مراکز اور وال سٹریٹ کے بڑے سرمایہ کار ادارے اب ایک ایسے جدید سائبر خطرے کی زد میں ہیں جس نے ٹیکنالوجی ماہرین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ماضی میں ہیکرز نیٹ ورکس کے فائر وال کو توڑنے اور سسٹم میں نقب لگانے کی کوشش کرتے تھے، لیکن اب طریقہ کار مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق حملہ آور اب نیٹ ورک توڑنے کے بجائے انتہائی سادہ اور مؤثر طریقے سے براہِ راست 'لاگ ان' کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
گوگل کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین انتباہی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ بینکوں اور انویسٹمنٹ فرموں کی جانب سے کلاؤڈ بیسڈ شناخت پلیٹ فارمز، کولابوریشن سوئیٹس اور سافٹ ویئر ایز اے سروس (SaaS) ماڈلز پر منتقل ہونے کے رجحان نے ہیکرز کو نئے راستے فراہم کیے ہیں۔ ہیکرز اب نیٹ ورک سکیورٹی کی پیچیدگیوں میں الجھنے کے بجائے سوشل انجینئرنگ اور سادہ فون کالز کا سہارا لے رہے ہیں۔ ایک فون کال کے ذریعے وہ ملازمین کو دھوکہ دے کر ان کے لاگ ان کریڈینشلز حاصل کر لیتے ہیں اور پھر قانونی صارف بن کر سسٹم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اس لیے خطرناک ہے کیونکہ سسٹم اسے ایک 'درست صارف' کی لاگ ان کوشش سمجھ کر قبول کر لیتا ہے۔ جب حملہ آور ایک بار درست پاس ورڈ اور ملٹی فیکٹر اتھنٹیکیشن کے ذریعے سسٹم میں داخل ہو جاتا ہے، تو اس کے بعد وہ حساس مالیاتی ڈیٹا، کسٹمر کی معلومات اور خفیہ دستاویزات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان اداروں کے لیے باعثِ فکر ہے جو اپنے ڈیٹا کو کلاؤڈ پر منتقل کر چکے ہیں مگر ابھی تک جدید ترین سکیورٹی پروٹوکولز سے لیس نہیں ہیں۔
اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مالیاتی اداروں کو اپنے ملازمین کی تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گوگل اور دیگر سکیورٹی فرمز نے مشورہ دیا ہے کہ پاس ورڈز کے بجائے ہارڈویئر بیسڈ سکیورٹی کیز کا استعمال بڑھایا جائے اور کسی بھی غیر متوقع فون کال پر حساس معلومات دینے سے سختی سے گریز کیا جائے۔ یہ نیا رجحان ثابت کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی جتنی ترقی کر رہی ہے، ہیکرز بھی اتنی ہی تیزی سے اپنے طریقوں کو جدید بنا رہے ہیں، جس کے لیے اب صرف سافٹ ویئر سکیورٹی کافی نہیں، بلکہ انسانی بیداری بھی اتنی ہی ناگزیر ہے۔