Technology
اے آئی کے دور میں خبروں کی تصدیق: صحافیوں کے لیے جدید گائیڈ
پرنسٹن اور نیویارک یونیورسٹی کے تعاون سے ایک نئی گائیڈ جاری کی گئی ہے جو نیوز رومز کو مصنوعی ذہانت کے دور میں خبروں کی تصدیق کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا اور صحافتی معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے اس تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں، جہاں غلط معلومات اور ڈیپ فیک ویڈیوز کا پھیلاؤ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، پرنسٹن یونیورسٹی کے سینٹر فار انفارمیشن ٹیکنالوجی پالیسی اور نیویارک یونیورسٹی کے شعبہ جرنلزم نے مشترکہ طور پر ایک اہم پہل کی ہے۔ اس اقدام کے تحت نیوز رومز کے لیے ایک جامع گائیڈ جاری کی گئی ہے جس کا مقصد صحافیوں کو خبروں کی تصدیق اور ڈیجیٹل ذرائع کی جانچ کے لیے جدید ترین تکنیکی مہارتیں فراہم کرنا ہے۔ یہ گائیڈ خاص طور پر ان نیوز رومز کے لیے تیار کی گئی ہے جو محدود وسائل کے باوجود درست اور بروقت رپورٹنگ کرنے کے خواہشمند ہیں۔
اس گائیڈ کی تیاری کا فیصلہ جون میں منعقدہ ایک ورکشاپ کے دوران کیا گیا، جہاں مختلف میڈیا اداروں کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں روایتی صحافتی اصولوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ شرکاء نے اس ضرورت کا اظہار کیا تھا کہ صحافیوں کو ایسے عملی اور مختصر وسائل کی اشد ضرورت ہے جس کے ذریعے وہ آن لائن موجود مواد کی صداقت کو سیکنڈوں میں جانچ سکیں۔ یہ گائیڈ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور اصلی ویڈیوز یا تصاویر کے درمیان فرق کرنے کے لیے کئی تکنیکی طریقے بیان کرتی ہے، جو عالمی سطح پر صحافتی معیار کو بلند کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
ماہرین کے مطابق، صحافتی اداروں کو اب صرف خبر دینے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ خبر کی تصدیق کو اپنے ورک فلو کا سب سے اہم حصہ بنانا ہوگا۔ اس نئی گائیڈ میں ان ٹولز کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو تصویروں کے میٹا ڈیٹا کی جانچ کرتے ہیں، نیز ان طریقوں پر روشنی ڈالی گئی ہے جن سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مشکوک ویڈیوز کی اصلیت کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ پرنسٹن اور نیویارک یونیورسٹی کی یہ کوشش اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ صحافتی ادارے غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روک کر عوام کا اعتماد بحال رکھ سکیں۔
مستقبل کے حوالے سے اس گائیڈ کا دائرہ کار مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے، تاکہ دنیا بھر کے صحافی مصنوعی ذہانت کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے تعلیمی اور تحقیقی اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ صحافت کے شعبے سے وابستہ افراد اس گائیڈ کو ایک بنیادی رہنما دستاویز کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں تاکہ ڈیجیٹل دور میں اپنی ساکھ اور خبروں کی معتبریت کو برقرار رکھا جا سکے۔