Technology
اوپن اے آئی کا تنازع: امریکی ورکرز کیس میں 3.2 ملین ڈالر کا تصفیہ
اوپن اے آئی اور اس کی ذیلی کمپنی سٹیٹ سگ نے امریکی وزارت انصاف کے ساتھ ایک تصفیہ طے کیا ہے جس کے تحت وہ امریکی ورکرز کے حقوق کی پامالی کے عوض 3.2 ملین ڈالر ادا کریں گے۔ کمپنی پر الزام تھا کہ اس نے پرم (PERM) پوزیشنز پر امریکی شہریوں کے بجائے غیر ملکی ویزا ہولڈرز کو ترجیح دی تھی۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں عالمی شہرت یافتہ کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) اور اس کی ذیلی کمپنی سٹیٹ سگ (Statsig) کو ایک بڑے قانونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی نے امریکی وزارت انصاف کے ساتھ 3.2 ملین ڈالر کے تصفیے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب کمپنی پر سنگین الزامات عائد کیے گئے کہ اس نے اپنی بھرتیوں کے عمل کے دوران امریکی شہریوں کے بجائے غیر ملکی ویزا ہولڈرز کو ترجیح دی، جو کہ ملکی لیبر قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
وزارت انصاف کی جانب سے جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، یہ امتیازی سلوک پرم (PERM) پروگرام کے تحت مخصوص ملازمتوں کے لیے کیا گیا تھا۔ اس عمل کے دوران، کمپنی نے دانستہ طور پر امریکی ورکرز کو نظر انداز کیا تاکہ غیر ملکی ملازمین کو ان عہدوں پر تعینات کیا جا سکے۔ یہ معاملہ امریکی لیبر مارکیٹ میں مقامی افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم مثال بن کر ابھرا ہے، جہاں کمپنیوں کو اپنی بھرتیوں کے عمل میں شفافیت اور برابری کو یقینی بنانے کا پابند کیا جاتا ہے۔
تصفیے کے معاہدے کے تحت اوپن اے آئی نہ صرف بھاری جرمانہ ادا کرے گی بلکہ اس میں متاثرہ افراد کو معاوضے کی ادائیگی اور کمپنی کی داخلی پالیسیوں میں تبدیلی بھی شامل ہے۔ کمپنی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ اپنی بھرتیوں کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنائے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امریکی شہریوں کو ان کی اہلیت کے مطابق ملازمت کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ وزارت انصاف کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ تصفیہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی بڑی ٹیک کمپنی کو مقامی لیبر حقوق کی پامالی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس واقعے کے بعد اوپن اے آئی نے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کے لیے پرعزم ہیں اور مستقبل میں لیبر قوانین کی مکمل پاسداری کریں گے۔ ٹیک انڈسٹری میں اس نوعیت کا کیس کافی غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی حکومت اب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بھرتیوں کے عمل پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں دیگر ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی ایک انتباہ ثابت ہوگا تاکہ وہ اپنی کارپوریٹ پالیسیوں میں اصلاحات لا سکیں۔