Technology
گوگل پکسل 11 پرو ایکس ایل: ریلیز سے پہلے ترکی میں دستیاب
گوگل کا ابھی تک مارکیٹ میں نہ آنے والا اسمارٹ فون پکسل 11 پرو ایکس ایل ترکی کی گرے مارکیٹ میں پری آرڈر کے لیے دستیاب ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس ڈیوائس کی قیمت مبینہ طور پر 1700 ڈالر مقرر کی گئی ہے جو کہ آفیشل لانچ سے پہلے ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جس کے مطابق گوگل کا آئندہ آنے والا فلیگ شپ اسمارٹ فون 'پکسل 11 پرو ایکس ایل' ابھی باضابطہ طور پر متعارف کرائے جانے سے قبل ہی ترکی کی گرے مارکیٹ میں نمودار ہو گیا ہے۔ تکنیکی ماہرین اور موبائل مارکیٹ پر نظر رکھنے والے افراد کے لیے یہ اطلاع خاصی حیران کن ہے کیونکہ گوگل کی جانب سے اس ڈیوائس کے حوالے سے کوئی بھی آفیشل اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس ڈیوائس کی ابتدائی کھیپ غیر قانونی یا گرے مارکیٹ کے ذرائع سے فروخت کے لیے پیش کی گئی ہے۔
اس ڈیوائس کے لیے ترکی کی غیر سرکاری مارکیٹ میں جو قیمت مقرر کی گئی ہے وہ 1700 ڈالر کے لگ بھگ ہے، جو کہ ایک انتہائی بھاری رقم ہے۔ یہ قیمت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ گرے مارکیٹ کے بیچنے والے اسے ایک نایاب اور ایڈوانس ڈیوائس کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ عام طور پر کمپنیاں اپنی ڈیوائسز کی لانچنگ سے پہلے سیکیورٹی اور سپلائی چین کے سخت انتظامات کرتی ہیں، تاہم اس واقعے نے گوگل کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب گوگل کے پکسل فونز ریلیز سے قبل لیک ہوئے ہوں، لیکن اتنی بڑی تعداد میں یونٹس کی دستیابی یقیناً تشویشناک ہے۔
ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی لیکس کا مقصد محض منافع خوری ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سے شائقین ٹیکنالوجی ہر قیمت پر نئی ڈیوائسز حاصل کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ اگرچہ 1700 ڈالر کی قیمت مارکیٹ ویلیو سے کہیں زیادہ ہے، لیکن ترکی میں اس فون کا گرے مارکیٹ میں دستیاب ہونا اس کے فیچرز اور ڈیزائن کے بارے میں تجسس کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ابھی تک گوگل کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ آیا یہ یونٹس اصلی ہیں یا کوئی انجینئرنگ سیمپل۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ گرے مارکیٹ سے مہنگے داموں غیر تصدیق شدہ ڈیوائس خریدنا صارفین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں سافٹ ویئر سپورٹ، وارنٹی اور ہارڈ ویئر کی تصدیق کا کوئی نظام موجود نہیں ہوتا۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گوگل کی آفیشل لانچنگ کا انتظار کریں تاکہ وہ مکمل پروڈکٹ کے ساتھ کمپنی کی آفیشل سپورٹ اور وارنٹی کا فائدہ اٹھا سکیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے کہ آیا گوگل ان یونٹس کو ٹریس کر پاتا ہے یا نہیں۔