LIVE
Loading Breaking News...

امریکی پولیس کی ہوٹل کے پول پر نگرانی: نیا تنازع کھڑا ہو گیا

News Image
کیلیفورنیا کے ایک چھوٹے سے شہر میں پولیس کی جانب سے نجی ہوٹل کے سوئمنگ پول کی طویل عرصے تک نگرانی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک مقبول ٹی وی شو میں اس واقعے کے نشر ہونے کے بعد مقامی انتظامیہ پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کا ایک چھوٹا سا شہر ان دنوں قومی سطح پر بحث کا مرکز بن چکا ہے، جب وہاں کی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے وسیع نگرانی نیٹ ورک کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ یہ معاملہ تب سامنے آیا جب ایک معروف لیٹ نائٹ ٹاک شو کے میزبان نے اپنے پروگرام میں یہ انکشاف کیا کہ مقامی پولیس کے پاس موجود کیمروں نے ایک نجی ہوٹل کی پراپرٹی اور خاص طور پر وہاں موجود سوئمنگ پول کو سینکڑوں گھنٹوں تک ریکارڈ کیا۔ اس انکشاف کے بعد مقامی شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، پولیس کے نگرانی کرنے والے نیٹ ورک کا مقصد عوامی تحفظ بتایا جاتا ہے، تاہم اس واقعے نے نجی مقامات کی نگرانی کے اخلاقی اور قانونی جواز پر کئی بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ کیمرے ہوٹل کے احاطے میں موجود سوئمنگ پول پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے، جس کا مقصد اب تک واضح نہیں کیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پولیس کا اس طرح نجی املاک اور عوامی تفریحی مقامات کی نگرانی کرنا شہریوں کی پرائیویسی کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے محکمہ پولیس نے ابتدائی طور پر اسے ایک معمول کا حفاظتی اقدام قرار دینے کی کوشش کی، تاہم عوامی دباؤ اور ٹی وی شو کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے بعد حکام دفاعی پوزیشن میں نظر آ رہے ہیں۔ پولیس انتظامیہ نے تاحال اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ آخر کن بنیادوں پر ہوٹل کے پول کو طویل وقت تک مانیٹرنگ کے دائرے میں رکھا گیا۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ شہر کی انتظامیہ اس نگرانی کے پورے نظام کا آڈٹ کروائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مستقبل میں شہریوں کی نجی زندگی میں اس طرح کی مداخلت نہ ہو۔ یہ واقعہ امریکہ میں پولیس کے ٹیکنالوجی اور نگرانی کے طریقوں پر جاری بحث کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں پولیس کو جو اختیارات حاصل ہیں، ان کا استعمال شفاف ہونا چاہیے۔ اگر نجی مقامات کی نگرانی کے لیے کوئی باضابطہ عدالتی احکامات موجود نہیں ہیں، تو یہ عمل قانون کی گرفت میں آ سکتا ہے۔ فی الحال یہ معاملہ پورے ملک میں زیر بحث ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں مقامی کونسل اور حکام کو اس پر مزید سخت جوابات دینے پڑیں گے۔